کورونا وائرس اور پاکستانی عوام

 چین کے شہر ووہان سے 31 دسمبر 2019 کو پھیلنے والے خطرناک کورونا وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس وبا کا آغاز اکتوبر یا نومبر میں ہوا جس کی علامات نمونیا جیسی تھی۔ جب تک چینی حکومت کو اس وائرس سے متعلق یہ معلومات ملنا شروع ہوئیں کہ یہ باآسانی ایک انسان سے کئی انسانوں میں منتقل ہو سکتا ہے تو چین نے ووہان میں 23 جنوری کو مکمل لاک ڈاؤن کر دیا جبکہ شہر کی مچھلی مارکیٹ کو بھی یکم جنوری کو بند کر دیا گیا جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس وائرس کے پھیلنے کا سبب بنی۔ حکام نے اس میں پائے جانے والے دیگر جنگلی جانوروں کی خریدوفروخت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔

اس طرح چین کے صوبہ ہوبی میں 5 کروڑ 60 لاکھ لوگوں کو قرنطینہ کر دیا گیا۔ اس دوران چینی قوم نے بھی حکومت کا بھرپور ساتھ نبھایا اور حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں پر عملدرآمد کیا اور اپنے گھروں سے غیر ضروری طور پر نکلنے سے پرہیز کیا۔ لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد بھی بچے، بوڑھے اور جوان سبھی ماسک پہنے اور حفاظتی انتظامات کرتے نظر آئے۔

اسی طرح یورپ کے بیشتر ممالک، خاص طور پر اٹلی اور اسپین میں بھی جلد ہی لاک ڈاؤن کر دیا گیا۔ یہ ممالک کورونا وائرس سے بری طرح متاثر ہوئے۔ اٹلی میں 9 مارچ کو لاک ڈاؤن کیا گیا جس میں 6 کروڑ لوگوں کو قرنطینہ کر دیا گیا۔ اٹلی جو کہ ایک سیاحتی ملک ہے اور جس کا شہر وینس سیاحوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ایک سنسان اور ویران جزیرہ کا منظر پیش کرنے لگا۔

کورونا بہت جلد دنیا کے 200 سے زائد ممالک تک پھیل گیا اور پھر کورونا سے متاثرہ افراد اور ہلاکتوں کا ایک نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس وقت دنیا بھر میں اس وبا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 80 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بھی 5 لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔

جہاں کورونا کی آفت نے ہر انسان کو خوفزدہ کر دیا ہے وہیں پر کچھ قومیں ایسی بھی ہیں جو اس سنگین صورتحال کے باوجود اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہیں۔ اس کی ایک بہترین مثال ہمارے اپنے پاکستانی معاشرے کی ہے جس نے اس وبا کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

ابتدائی طور پر جہاں حکومت نے اس وبا کو غیرسنجیدگی سے ڈیل کیا اور ابھی تک تذبذب کا شکار ہے، وہیں عوام میں بھی سنجیدگی کا عنصر دکھائی نہیں دیتا اور اتنا نقصان ہو جانے کے باوجود بھی ہوش کے ناخن نہیں لے رہی۔ شہری ابھی تک حکومت کی وضع کردہ گائیڈ لائنز پر مکمل عمل درآمد نہیں کر رہے۔ بازاریں، پارک اور سڑکیں تقریباً ویسا ہی منظر پیش کرتی ہیں جیسا کہ کوڈ 19 سے پہلے تھا۔

کورونا سے بچاؤ کیلئے ماسک جیسی بنیادی چیز کے استعمال کو بھی عوام ترجیح نہیں دی رہی۔ دنیا بھر میں بہت ساری تحقیقات سامنے آ چکی ہیں جس میں ماسک پہننے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے مگر ہم پاکستانی اس قسم کی چیزوں پر توجہ دینا شاید وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔

فوکس نیوز کی ایک خبر کے مطابق ہانگ کانگ کے سائنسدانوں کی ایک ٹیم کی تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ ماسک پہننے سے انفیکشن کی منتقلی کو 74 فیصد تک روکا جا سکتا ہے۔ حال ہی میںایک طبی جریدے لانسٹ میں شائع ہونے والے ایک ریویو میں اس بات کی نشاندھی کی ہے کہ ماسک پہننے سے کورونا انفیکشن کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے ماہر متعدی امراض جافری شامن نے اس معاملے پر روشنی ڈالی کی کورونا وبا پھوٹنے کے ابتدائی ایام میں ماسک کا فوری استعمال کرنے والے ایسے ایشائی ممالک جن میں ساؤتھ کوریا، ویتنام اور تائیوان شامل ہیں نے جلد ہی اس انفیکشن کے پھیلاؤ پر قابو پا لیا اور اپنی معاشی ترقی کے سفر کو بھی جاری رکھا۔

پاکستان میں جب کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا تو وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے اس وائرس کو معمولی نزلہ اور زکام کی بیماری قرار دیا۔اس دوران حکومت نے ضروری ایس او پیز جاری کئے جس میں ماسک پہننے کو بنیادی جز قرار دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ماسک ہی مارکیٹ سے غائب ہو گئے۔ 2 روپے والا ماسک بلیک میں 50 روپے میں فروخت ہونے لگا۔ ایک طرف حکومت یہ دعوے کر رہی ہے کہ ہم ماسک کو ایکسپورٹ کر رہے ہیں جبکہ عوام کو اب بھی وہی سرجیکل ماسک 2 روپے کے بجائے 20 روپے میں مل رہا ہے۔

وزیراعظم خود کہتے ہیں کہ عوام کی اکثریت غربت کا شکار ہے اور وہ لاک ڈاون سے ان کی جانوں کو داو پر نہیں لگا سکتے دوسری جانب وہ 500 روپے دیہاڑی کمانے والے سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ناصرف خود 20 روپے کا ماسک روزانہ خریدے بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی خرید کر استعمال کرائے۔ اب “گنجی نہائے کیا اور نچوڑے کیا” والی صورتحال ہے۔ حکومت آٹا،چینی کی طرح اس کی قیمت کو بھی کم کرانے میں بھی ناکام نظر آرہی ہے۔

کورونا سے بچاؤ کے حوالے سے دوسرا اہم قدم سماجی دوری اختیار کرنا ہے۔ اس حوالے سے بھی ہمارے پیارے پاکستان میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ اس کے علاوہ لوگ میل ملاپ کے دوران سماجی فاصلہ قائم نہ رکھنے میں بھی ناکام نظر آتے ہیں۔ جہاں ساری دنیا میں سماجی دوری کے قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا گیا اور ایسی مثالیں بھی سامنے آئیں جہاں اقتدار میں بیٹھے لوگوں کو اسکی خلاف ورزی پر برطرف کر دیا گیا اور جرمانے بھی کئے گئے۔ لیکن پاکستان میں وزیراعظم سمیت پوری قوم نے سماجی دوری کو بلائے طاق رکھتے ہوئے اپنی مشکلات بڑھا لی ہیں۔

اور تو اور ہمارے پولیس اہلکار کس نہ کسی موٹر سائیکل یا گاڑی کو روکتے ہیں تو حکومتی ایس او پیز کی کھلی خلاف ورزی کرتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ ان کے گرد کم سے کم 5 سے 6 لوگوں کا جھمگٹا لگا ہوا ہوتا ہے اور 6 فٹ کی دوری کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستان میں کورونا کی وبا نے تیزی سے پھیلنا شروع کر دیا ہے اور اس وقت ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد 1 لاکھ 60 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور متاثرہ افراد کی تعداد اور اموات کے بڑھنے کا سلسلہ جاری وساری ہے۔ حال ہی میں برطانیہ میں پاکستان کے حوالے سے ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت کورونا سے ہونے والی اموات کی شرح اسی طرح بڑھتی رہی تو اگست میں روزانہ کی اموات 75 ہزار سے بڑھ سکتی ہیں۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو پاکستان میں ایک قیامت کا سا منظر ہوگا۔

بدقسمتی سے ہم ابھی تک ایک قوم نہیں بن سکے اور نہ آنے والے چند برسوں میں ایسا معجزہ ہونے کے امکانات موجود ہیں۔ ہمارے ہاں خواندگی کی شرح 60 فیصد ہے مگر لگتا ہے کہ تعلیم نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا۔ معاشرے میں تربیت نام کی چیز مفقود نظر آتی ہے۔ مانا کہ ہمارے ہاں تعلیم اور صحت کا نظام انتہائی فرسودہ اور خراب ہے اور یہ شعبے کبھی کسی بھی حکومت کی ترجیح نہیں رہیں۔ ظاہر ہے جو ملک دفاع پر ہر سال کم وبیش 1 ہزار 55 ارب روپے خرچ کر دیں تو باقی صحت و تعلیم اور دیگر سہولیات عوام کو کیونکر میسر آئیں گی۔

اٹھارویں ترمیم کے بعد چونکہ صحت اور تعلیم کو بہتر بنانے کی ذمہ داری صوبوں کو منتقل کر دی گئی ہے جس سے اس پیچیدہ نظام کو سمجھنا اور مشکل ہو گیا ہے۔ عوام کے لیے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ خراب صحت کے نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ صرف اپنی حفاظت خود کریں بلکہ دوسرے لوگوں کا بھی خیال رکھیں۔ کسی قسم کی خریداری کرتے ہوئے اور دیگر روزمرہ کے کام کرتے ہوئے سماجی دوری کو برقرار رکھیں اور ماسک پہننے کو ترجیح دیں۔ پر ہجوم اور رش والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔

خدارا احتیاط کریں کیونکہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔ پاکستانی عوام یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ کورونا سے کسی گھر میں ہونے والی ایک موت حکومت کیلئے محض گنتی میں ایک اور اضافہ ہے مگر ان کیلئے عمر بھر کا روگ ہے۔ اس لیے احتیاط کیجئے خود کیلئے اور اپنے پیاروں کیلئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site
کورونا وائرس اور پاکستانی عوام is highly popular post having 1 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB