کورونا کی ویکسین تیار ہونے کے بعد بھی ایک رکاوٹ باقی رہے گی، بل گیٹس

مائیکروسافٹ کے بانی اور دنیا کے امیر ترین افراد میں شامل بل گیٹس نے امریکہ کی کورونا کا پھیلاؤ روکنے میں ناکامی پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے، انہوں نے وارننگ دی ہے کہ کرہ ارض پر موجود ہر فرد کو ویکسین لگانے سے پہلے اس کی رضامندی ضروری ہو گی جو ایک بڑی رکاوٹ ہے۔

بل گیٹس نے بار بار اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ جن ریسرچ لیبارٹریز کو وہ فنڈ کر رہے ہیں وہاں سے کورونا کی ویکسین تیار ہونے کے بعد اسے دنیا کے ہر شخص تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

دنیا کے غریب افراد اور ممالک تک کورونا ویکسین کیسے پہنچے گی؟

مودی حکومت کو گنگا کے پانی سے کورونا کے علاج کی امید، سائنسدانوں نے تجویز رد کر دی

تاہم انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ویکسین لگنے کے بعد ایک فرد خود تو کورونا سے محفوظ ہو جائے گا مگر وائرس کو دوسروں کی طرف منتقلی اس سے نہیں رک پائے گی۔

ایک سروے کے مطابق ایک تہائی امریکیوں کو ویکسین کے متعلق خدشات لاحق ہیں کہ کہیں اس کی وجہ سے کورونا کا مرض نہ لاحق ہو جائے۔

سی این این سے بات کرتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ دنیا کے 70 سے 80 فیصد افراد کو ویکسین لگنے کے بعد ہی دنیا نارمل انداز میں کام کر سکے گی، لوگ سفر کر پائیں گے اور اور کھیلوں کی تقریبات منعقد کی جا سکیں گی۔

انہوں نے کہا کہ اس میں ایک بڑی رکاوٹ اس بات کی ہے کہ کہیں بڑی تعداد میں لوگ ویکسین لگوانے سے انکار نہ کر دیں، اسے کورونا سے تحفظ کا ذریعہ سمجھنے میں ابھی تک بہت لوگ تذبذب کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویکسین کی تیاری کے بعد لوگوں کے پاس اسے لگوانے یا نہ لگوانے کا اختیار ہو گا اور یہ کورونا وبا کے خلاف آخری رکاوٹ ہو گی۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site