سردار ملاح کی زندگی کے آخری 14 روز

لاہور سے میرے دوست ڈاکٹر عرفان قیصرانی نے عدم صاحب کا ایک واقعہ سنایا، جو کالم کے آخر میں بیان کردہ میرے ذہنی خلفشار سے حیرت انگیز مماثلت اختیار کر گیا۔ ڈاکٹر عرفان قیصرانی، عدم صاحب کا واقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔

                 بدھ کے دن نمازِ جمعہ؟

عبدالحمید عدم نے ایک بار اپنے انگریز افسر سے اجازت طلب کرتے ہوئے عرض کیا،

       سر! میں نمازِ جمعہ پڑھ آؤں؟ انگریز افسر نے جواب دیاہاں کیوں نہیں؟

         پڑھ آؤ۔عدم صاحب کے جانے بعد ایک دوست نے آ کر افسر سے پوچھا؟

         عدم صاحب کہاں ہیں؟وہ تو جمعہ پڑھنے گئے ہوئے ہیں۔ انگریز افسر نے جواب دیا

         وہ دوست ہنستے ہوئے کہنے لگا!سر جی آج تو بدھ ہے، عدم  آپ کو چکر دے گیا۔

         افسر نے کہا چلو کوئی بات نہیں ابھی واپس آتا ہے، عدم، اس کی کرتے ہیں؟

         جوں ہی عدم واپس آیا۔انگریز افسر نے باز پرس کی کہ جناب آج تو بدھ ہے،

         آپ کیسا جمعہ پڑھنے گئے تھے؟ عدم صاحب ذراجو کھسیانے ہوئے ہوں،

         الٹا حیران ہو کر کہنے لگے!ھائیں؟ آپ نے مجھے  پہلے کیوں نہیں بتایا؟

          آج بدھ ہے؟اچھا!میں تو آج جمعہ پڑھ آیا ہوں، جب آپ نے مجھے

          پہلے بتایا ہی نہیں کہ آج بدھ ہے؟

          سردارے ملاح کی کہانی اور جوانی کی مرگِ ناگہانی

پورا نام اسردار احمد، ملاح قبیلے سے اس کا تعلق تھا۔ لیکن سب لوگ اسے سردارا کٹانا کہتے تھے۔ سردارے سے ہمارا تعارف تب ہوا جب دریا اور اس کا قرب وجوار ہماری سیر گاہ، دارالمطالعہ، جوگنگ ٹریک، جِم،نوٹسوں کو رٹے لگانے کی محبوب جگہ اور یہ ہی دریا ہمارا سوئمنگ پول تھا۔سرداق اپنی آپ بیتی بتاتے ہوئے کہتا ہے۔ یہ ان دنوں کی کہانی ہے، جب دریاؤں میں پانی کی روانی، میرے باپ کی جوانی اور یوں زندگی سہانی تھی۔جنرل ایوب خان نے دریا بیچ کھائے، انڈیا نے دریاؤں پر ڈیم بنا لیے اور ہم آج پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔بہ قول اشولال دریا ساڈا پیو ماء تے اساں ایندے پونگے۔ اب پونگے ماہئی بے آب ہو گئے ہیں۔اب یہ دریا سال بھر میں ایک آدھ بار مشتعل ہو جاتا ہے۔ ورنہ یہ ہی نیلا دریا، چمکیلی ریت، کیچڑ اور گارے کا گندہ نالہ ہی رہتا ہے۔

اِس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے؟

اب رات کو سردارا اسٹیشن پر آجاتا، جہاں ہمارے ساتھ دانش وروں، پروفیسروں، شاعروں اور سیاسی ورکروں کی بیٹھک اٹینڈ کرتا۔ایک بار اس نے بتایا! میرے والدین،رشتہ داراور برادری کا کوئی آدمی  دریائی بند سے اس طرف شہر کبھی نہیں آیا۔ خواہ کتنی ہی ایمرجنسی کیوں نا ہو جائے؟ہمارے بزرگ ہمیں شہر میں آنے سے منع کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے! شہر میں پولیس پکڑ لیتی ہے اور شناختی کارڈ طلب کرتی ہے اور ہمارے شناختی کارڈ نہیں ہیں۔ملک فضل حسین جکھڑ ہمارے شناختی کارڈ بنوایا کرتا تھا اور ہم الیکشن میں ووٹ بھی کرتے تھے۔جب جنرل پرویز مشرف آیا،کمپیوٹرائزڈ شناختی کاڈ بنے۔ ہمارے شناختی کارڈ معطل اور شناخت گہنا گئی۔ہم جس ملک میں رہتے ہیں، اس ملک کے شہری نہیں ہیں؟کسی دوسرے ملک کے شہری کس طرح ہو سکتے ہیں، جو ہم نے یا ہمارے باپ دادا نے دیکھا تک نہیں۔

آدمی کو بھی میسر نہیں اِنساں ہونا

دوسری، ہماری شہر میں نا آنے کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ ہمیں کیہل، کٹانا، ماہانا اورپکھی واس کہہ کر ہماری تضحیک کرتے رہتے ہیں۔ہمیں مسلمان تو کج آ، انسان بھی نہیں سمجھتے؟مسلمان اور انسان کیسا اور کون ہوتا ہے، اس کی مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی؟کیا یہ انسان ہیں؟ کبھی زمین کی بندر بانٹ پر نسل در نسل خون خرابااور کبھی دین کے نام پر خون کی ندیاں، کبھی چوری چکاری اور کبھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر جھوٹی انا، عزت اور غیرت پر منھ ماری۔ یہ انسان ہیں اور اس پر مستزاد مسلمان بھی؟

ہم ایسے انسان ہونے سے کیہل، کٹانے اور موہانے  ہونے پر ہی مطمعن و مسرور ہیں۔ آپ کی انسانیت اور مسلمانیت آپ کو مبارک ہو۔

اگلے وقتوں کے ہیں یہ لوگ انہیں کچھ نہ کہو

 سردارے ملاح نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا! مجھے تو یاد نہیں پڑتا، میرے والد صاحب بتایا کرتے تھے۔جب بھٹو صاحب کا دور تھا۔ دریاؤں میں پانی کی فراوانی، میری جوانی اور یوں زندگی سہانی تھی۔ہمیں بھٹو صاحب کے نعرے، روٹی،کپڑا اور مکان نے کبھی ہانٹ نہیں کیاتھا۔بلکہ ہم جیسے راندۂ درگاہ انسانوں کو اعلیٰ اور دوسرے انسانوں کے برابر مقام دینے کے نظریے نے دلوں میں ایک بجلی سی بھر دی تھی، جس کی حدت وشدت آج تک جذبوں میں موجزن و خیمہ زن ہے۔

اپنے رہنے کو تو اپنا بدن ہے کافی:مکان کی ہمیں آج تک ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ کشتی اور دریا کا کنارہ ہی ہمارا مکان،اور اوڑھنا بچھونا رہا۔ روزی روٹی بھی دریاسے وابستہ رہی۔ بس ہمیں اپنے وجود کی تفہیم کی ضرورت تھی، جس کا بھٹو صاحب نے نعرہ بلند کیا تھا۔لیکن آپ نے، انسان نے،ہمیں انسان تسلیم کرنے کی وہ نا آسودہ خواہش بھی پوری نا ہونے دی، جس کی بنیاد انسان کا کردار ہوتا ہے۔ اسی لیے آپ کے علامہ اقبال نے انسان بننا فرشتوں سے بہتر قرار دیا ہے۔سلیم گورمانی کا مکمل شعر یوں ہے۔

                                        اپنے  رہنے کو  تو  اپنا بدن ہے کافی

                                       ہو ہوَس تو جہاں سارے کا سارا کم ہے

علامہ اقبال سے اشولال تک

اور ہاں اقبال  سے یاد آیا۔ آپ اپنے اسٹڈی سرکل میں فیض اور اقبال کی ایک دوسرے پر برتری کی بحثیں کرتے رہتے ہیں۔ مجھے تو ان دونوں شعرا میں اپنائیت محسوس نہیں ہوتی۔ ان میں سے کسی نے بلکہ پورے اردو ادب میں کسی نے ہماری یعنی کیہل، کٹانوں، موہانوں اور پکھی واسوں کی بات نہیں کی۔مجھے تو اشولال اپناقومی شاعر لگتا ہے، جس نے ہماری ماء بولی سرائیکی میں ہماری شناخت کی بات کی ہے۔ بلکہ اشولال نے ہمیں انڈس ویلی کا حقیقی وارث قرار دیا ہے۔وادیء سندھ کے باسیوں کا قومی شاعر اشولال ہے۔اس کی شاعری کی کتاب چھیڑو یتھ نہ مرلی کو ہمارے پکھی واس قبیلے میں مذہبی کتاب کا سا مقام و احترام دیا جاتا ہے۔

اشولال نے ساری کتاب ہمارے نام منسوب کر دی ہے۔

                                          اوندے رچھ دے ناں

                                          اوندی کلی دے ناں

                                          رستہ بھلی دے ناں

عصرِ بے چہرہ کی اداس نسلیں

دریا بے نور ہو گئے۔ کَشتیاں خشکی پہ آ گئیں۔ پکھی واس بن باس ہو گئے۔ دریا کنارے جس جگہ بھی بسیرا کیا۔ قبضہ گروپ آ گئے کہ یہ جگہ ہماری ہے۔ ڈی۔ سی۔ صاحب نے ہمیں الاٹ کر دی ہے۔کئی وکیل میرے دوست ہیں۔ان سے اپنا استحقاق طلب کرنے کی عرضی دائر کرنے کا کہا تو انھوں نے ٹکا سا جواب دیا۔ یہ دریا کنارے، حتیٰ کہ دریا، ہوااور زیرِ زمین بھی۔۔۔سب کچھ ریاست کی ملکیت ہے۔ ڈی۔ سی۔ جسے چاہے دے سکتا ہے۔ تم ریاست کے مامے لگتے ہو۔ تمھارا شناختی کارڈ نہیں ہے۔ تمھارا کیس دائر ہی نہیں ہو سکتا، شنوائی تو دور کی بات ہے۔تس پہ اشولال کہتا ہےتم انڈس ویلی کے حقیقی والی ہو۔ ہم انڈس ویلی کے والی وہ سوالی ہیں، جنھیں ڈھنگ سے بھیک بھی کوئی نہیں دیتا۔پکھی واس کبھی آپس میں جھگڑ پڑیں تو ہفتہ بھر حوالات میں بغیر مقدمے کے پڑے ہوئے سڑتے رہتے ہیں، انڈس کے والیوں کی ضمانت بھی کوئی نہیں دیتا۔پولیس اور عوام نفرت اور حقارت سے، بے نیازی سے دیکھتے ہوئے چلے جاتے ہیں۔ہم بے کسی، بے بسی کی تصویر بنے اپنے انسان اور پاکستانی نا ہونے پر شک بلکہ یقین کر لیتے ہیں۔اس پر اشولال کہتا ہےتم سندھ دھرتی کے اصل وارث ہو۔ہم نے تمام حملہ آوروں، طاقت وروں اور مہاجروں کو اپنی ماء دھرتی پر جگہ دی۔ انھوں نے ہمیں ہی اپنی دھرتی سے کاٹ دالا۔ اپنی دھرتی پر اجنبی قرار دے ڈالا۔

بے نام زندگی اور موت بھی بے نامی ہوتی ہے

اب یہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کی تحریر آپ سردارے کا مقدمہ سمجھ لیں یاکہانی کی بنیاد۔ کیوں کہ یہ سردارے کی زندگی کی رئیل اسٹوری ہے۔ لہٰذہ اس میں آپ کو کوئی پلاٹ نظر نا آئے تو ا س میں میرا یا سردارے کا کوئی قصور نہیں۔ کیوں کہ پلاٹ تو فلموں، کہانیوں، ناولوں اور سازشوں میں ہوتے ہیں یا میتھ کے سوالات میں، حقیقی زندگی میں نہیں۔ سردارے کی زندگی میں یہی کچھ ہے، جو میں نے بیان کر دیا۔نا پیار بھری کہانی نا دل فریب مناظراور نا ایکشن سے بھر پور تھرل!اب بیس سال بعد سردارے کا فون آیا، خلافِ توقع، اچانک اور حیرت انگیز!اس نے جو کہا، میں آپ کو فون کا اسپیکر آن کر کے سناتا ہوں۔تو سنیں وہ کیا کہتا ہے؟

       ڈی سی نے ریاست کے نام پر ہماری زمین پر قبضہ کر لیا۔ مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں کہ اس نے زمین کس کو الاٹ کر دی ہے؟ ہمیں قبضہ گروپ نے زمین سے بے دخل کرا دیا تو ہم ریلوے اسٹیشن کے پاس آ کر پناہ گزیں ہو گئے۔ میرے ماں باپ بیمار ہو گئے،انہیں اسپتال داخل کرانا چاہا، تو اسپتال والوں نے داخل کرنے سے معذوری ظاہر کر دی۔ مسئلہ پھر وہی؟ کہ آپ کا شناختی کارڈ نہیں ہے۔ میرے والدین بیمار، لاچار، دوائی، روٹی پانی نہ ملنے اور سردی کی شدت میں ٹھٹھر تی رات کا جبر کب تک سہہ سکتے تھے؟ ان کی وفات کے بعد میں لاہور آگیا۔ یہاں کئی سال تک ایک ہوٹل پر بیرا گیری کی۔ کچھ عرصہ ہوا، یہاں ایک سیٹھ کی دوکان کے سامنے اپنا ٹی۔ اسٹال بنا لیا۔ دس پندرہ کپ، چار پانچ چینکیں، سینکے ہوئے برتن دھونے کی ایک تغاری، ایک پانی کے لئے جستی بالٹی اور ایک گیس کا چولہا۔ میرا سارا سرمایاء حیات تھا۔ لاک ڈاؤن کی سختیاں، مارکیٹیں کاروبار بند، گاہک نا پید، مارے باندھے ایک آدھ گاہک کبھی کبھار آ جاتا۔ یوں زندگی کا سلسلہ چل رہا تھا کہ اچانک طبیعت خراب ہو گئی۔ چھینکیں، نزلہ زکام اور سر میں درد رہنے لگا۔ کسی اسپتال میں جانے کی ہمت نا علاج کا خرچہ تھا۔ لاچار، ناچار،اس آ س میں آپ کو فون کیا کہ میری کوئی مدد، کوئی راہ نمائی فرمائیں؟

میں نے بہت کچھ سوچنے اور لاہور میں رہنے والے دوستوں پر غور کیا تو ڈاکٹر عرفان قیصرانی کا خیال آیا۔ میں نے سردارے کو ڈاکٹر عرفان قیصرانی کا فون نمبر بھیجا اور کہا کہ ڈاکٹر اسپتال میں اس کے پاس چلے جائیں۔ وہ ضرور کوئی حل نکال دے گا۔ڈاکٹر عرفان نے اس کو داخل کر لیا اور ٹیسٹ وغیرہ کرائے تو مرض وہ ہی نکلا جس کا آپ کو اندازہ اور مجھے امید تھی۔ سردارے کو کرونا ہو گیاتھا۔اب کیا کیا جائے؟ڈاکٹر عرفان نے بتایا سردارے کے علاج پر کوئی دو لاکھ خرچہ ہو گا۔اب سردارے کے پاس دو لاکھ تو کیا دو ہزار بھی نہیں تھے۔لاہور میں ایک اور میرے دوست بلکہ ہر دل عزیز دوست حسین قیصرانی، ڈاکٹر عرفان قیصرانی اور میں نے باہم مشورے سے اس کا حل یہ نکالا کہ فی کس پچاس ہزار سردارے کے علاج کے لیے اکھٹا کیا جائے اور باقی کے پچاس ہزار ڈاکٹر عرفان نے ڈاکٹر اسپتال سے رعایت کرا دی۔

جسے پیار زمانہ کہتا ہے نام اس کا تو قربانی ہے

عید قربان کے لیے ایک بکرا ایک ماہ قبل خرید کر کھڑا کر رکھا تھا۔ اس کو بیچنے کے لیے بیوپاری کو فون کیا۔ بیوپاری اپنا جاننے والا تھا، کہنے لگاسر جی!عید سے ایک ماہ قبل، جو بکرا آپ پچاس ہزار میں بیچ رہے ہیں،عید قربان کے نزدیک یہ ہی بکرا اَسی ہزار کا ہو جائے گا۔

میری مانیں تو ابھی اس کو نا بیچیں۔میں نے فیصلہ کن انداز میں کہا!جو بکرا، بیماری، مصیبت اور کسی کے دکھ درد دور کرنے کے لیے قربان کر دیا جائے۔ یہ قربانی نہیں تو اور کیا ہے؟میں عید قربان سے ایک ماہ قبل قربانی کرنا چاہتا ہوں۔

عدم کا بدھ کے دن نمازِ جمعہ اور میری عید قربان سے قبل قربانی

مولوی صاحب کہتے ہیں! اس طرح قربانی نہیں ہوتی۔ قربانی کے لیے دم دینا پڑتا ہے دم!اور سردارا انتہائی نا مساعد حالات میں وینٹی لیٹر پر چلا گیا۔فلموں میں وینٹی لیٹر پر جانے والا شخص کبھی واپس نہیں آیا، تو حقیقی زندگی میں کون واپس آ سکتا ہے؟

سردارے کی موت پر کوئی رونے والا نہ لاش وصول کرنے والا،اس کا جنازہ ہوا نہ قل خوانی،کوئی قبر نہ تعویذ، نشان نا مقام،بس نا معلوم افراد نے، نامعلوم افراد نے، نامعلوم جگہ پر، گڑھا کھود کرزیرِ زمین دبا ڈالا۔زندہ تھا تو رہنے کو جگہ اور کھانے کو روٹی نا ملی۔مر گیا تو قبر کی جگہ ملی نا فاتحہ نصیب ہوا۔یہ ہے سردارے کی زندگی اور موت۔۔۔! کبھی سوچا ہی نا تھا کہ انسان اس قدر سنگ دل اور تنگ نظر ہو جائے گا کہ انسان کو رہنے کی جگہ اور کھانے کو روٹی تک نا ملے گی؟دوسرے طرف ہزاروں ایکڑ زمین بنجر اور سیکڑوں ٹن غلاگوداموں میں پڑا سڑتا رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site