ویتنام نے مشکوک لائسنس کے معاملے پر تمام پاکستانی پائلٹ گراؤنڈ کر دیے

ویتنام کی ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے وی) نے کہا ہے کہ مشکوک لائسنس کے معاملے کی وجہ سے مقامی ایئرلائنز کے لیے کام کرنے والے تمام پاکستانی پائلٹس گراؤنڈ کر دیے ہیں۔

اپنے ایک بیان میں سی اے اے وی نے کہا ہے کہ پاکستانی پائلٹس کی معطلی اگلے نوٹس تک برقرار رہے گی، ادارہ پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر ان پائلٹس کے پروفائل کی جانچ پڑتال کر رہا ہے۔

ویتنام نے کل 27 پاکستانی پائلٹس کو لائسنس دیے تھے جن میں سے 12 ابھی تک کام کر رہے ہیں جبکہ بقیہ 15 پائلٹس کا یا تو معاہدہ ختم ہو گیا تھا یا وہ کورونا وائرس کے باعث کام نہیں کر رہے تھے۔

دبئی نے پاکستان سے آنے والی تمام پروازیں معطل کر دیں

کورونا ویکسین آنے تک بین الاقوامی فضائی سفر کی کیا صورت ہو گی؟

12 پائلٹس میں سے 11 ویٹ جیٹ ایوی ایشن کے لیے جبکہ ایک جیٹ سٹار پیسیفک کے لیے کام کر رہا تھا جو ویتنام کی قومی ایئرلائن کا ایک یونٹ ہے۔

سی اے اے وی نے اپنے بیان میں بتایا کہ ویتنام ایئرلائز اور بیمبو ایئرویز کے لیے کوئی پاکستانی پائلٹ کام نہیں کر رہا تھا۔

اس وقت ویتنام میں کل 1260 پائلٹس موجود ہیں جن میں سے تقریباً آدھے دوسرے ممالک کے شہری ہیں۔

اس سے قبل متحدہ عرب امارات نے 29 جون سے پاکستان سے آنے والی ہر قسم کی پرواز معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ جب تک مسافروں میں کورونا ٹیسٹ کرنے کے لیے خصوصی لیب تیار نہیں کی جاتی اس وقت تک پروازوں کی معطلی جاری رہے گی۔

دبئی کی سرکاری ایئرلائن ایمریٹس نے 24 جون سے ہی پاکستان سے آنے والی اپنی پروازیں معطل کر دی تھیں۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب اس کی ہانگ کانگ پہنچنے والی پرواز میں 30 پاکستانیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آ گیا تھا۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site
ویتنام نے مشکوک لائسنس کے معاملے پر تمام پاکستانی پائلٹ گراؤنڈ کر دیے is highly popular post having 1 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB