سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاؤن کراچی کے مبینہ نئے قبضوں کا سروے کرانے کا حکم

سپریم کورٹ میں تین رکنی بینچ کے سامنے بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی جس میں مبینہ طور پر مزید غیر قانونی قبضوں کا ذکر سامنے آیا تاہم بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض کو برطانیہ میں جرمانے کی سزا اور وہی رقم پاکستان منتقل کرکے اقساط کے طور پر سپریم کورٹ جمع کرانے کا کوئی تذکرہ نہ ہوا۔

عدالت نے عملدرآمد کیس میں بحریہ ٹاؤن کراچی کی جانب سے مبینہ طور پر نئے غیرقانونی قبضوں پر نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ ان مبینہ غیر قانونی قبضوں، سندھ حکومت کے اعتراضات اور وفاقی حکومت کے تحفظات پر تحریری فیصلہ جاری کیا جائے گا جس میں تمام نکات کو نظر میں رکھا جائے گا۔

عملدرآمد کیس کی سماعت جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ بینچ کے دیگر ارکان جسٹس اعجازلا حسن اور جسٹس منیب اختر تھے۔

سماعت کے دوران سوشل میڈیا کی پوسٹس کا بھی ذکر ہوا۔ جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ تحریری فیصلے میں سروے آف پاکستا ن سے حد بندی سے متعلق نئی رپورٹ منگوائیں گے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا بحریہ ٹائون نے اقساط جمع کرائی ہیں۔

وکیل بحریہ ٹاؤن بیرسٹر علی ظفر نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے اقساط کے علاوہ ایڈوانس رقم جمع کرائی ہے، سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں 57 ارب روپے سے زائد رقم جمع ہو چکی ہے، جولائی تک 32 ارب جمع کرانے تھے۔

وکیل نے مزید بتایا کہ کورونا وبا کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ریلیف کے لیے درخواست جمع کرائی تھی۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ یہ بات قبل از وقت ہے، آ پ نے رقم اقساط سے زیادہ ویسے ہی جمع کرائی ہے، سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر خبریں آ رہی ہیں کہ آپ نے مقررہ زمین سے زیادہ اپنے پاس رکھی ہے۔

بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہمیں 16 ہزار 8 سو 96 ایکڑ زمین الاٹ کی گئی جو مکمل نہیں ملی، سوشل میڈیا پر حقائق پر مبنی بات نہیں کی جاتی، اس پر الگ سے جواب داخل کرونگا، سندھ حکومت کو ہدایات دی جائیں کہ ہماری بقیہ زمین ہمیں دی جائے۔

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ کیوں نہ اس معاملے پر سروے کرایا جائے، سپارکو سمیت دیگر اداروں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ سروے کرے اورپورٹ جمع کرائے۔

انہوں نے کہا کہ سروے کرانے سے واضح ہوجائے گا کہ آپ کے پاس کتنی زمین ہے، دیکھنا چاہتے ہیں کہ مقرر کردہ زمین سے زیادہ آپ کے پاس ہے یا نہیں۔

اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ اگر عدالت سروے کرانے کا حکم دیتی ہے تو اس میں وفاقی اداروں کو شامل کیا جائے، بحریہ ٹاؤن کی جمع کرائی گئی رقم آرٹیکل 78 کے تحت وفاق کو دی جائے، اس حوالے سے درخواست پہلے سے جمع شدہ ہے۔

ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت پر کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی تھی، اس کمیٹی کی تشکیل اور اس میں وفاق کی شمولیت پر شدید اعتراض ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی میں سیکرٹری پلاننگ کی موجودگی سمجھ سے باہر ہے، سندھ میں کونسا ترقیاتی منصوبہ بنانا ہے یہ اختیار وفاق کو سونپنے پر اعتراض ہے۔

جسٹس اعجازلاحسن نے استفسار کیا کہ یہ اختیار کمیٹی اور عدالت کو دے سکتے ہیں؟ ہم فیصلہ کرتے وقت سندھ کے نکتے کو سامنے رکہیں گے۔

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ آئے روز شرح سود گرتی جا رہی ہے ہماری خواہش ہے کہ اس پیسے کا درست انداز میں استعمال ہو۔

جسٹس اعجازلاحسن نے ریمارکس دیے کہ بحریہ ٹاؤن کے حوالے سے حاصل شدہ رقم جاری منصوبوں پر استعمال نہیں ہو سکتی، یہ اصول وفاق اور صوبے پر بیک وقت لاگو ہو گا۔

ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ جب بھی صوبہ اپنی زمین فروخت کرتا ہے تو رقم کنسولیڈیڈ اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے، وفاق نے ابھی تک ہمیں 334 ارب ادا نہیں کئے۔

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیے کہ وفاق اور صوبہ آپسی اختلافات اس مقدمے سے دور رکھیں۔

جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ حال ہی میں آڈیٹر جنرل نے وفاق میں اربوں روپے کے گھپلوں کا ذکر کیا ہے، وفاق اور صوبے کی آپسی لڑائی میں ہم نہیں پڑیں گے۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site
سپریم کورٹ کا بحریہ ٹاؤن کراچی کے مبینہ نئے قبضوں کا سروے کرانے کا حکم is highly popular post having 1 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB