راہ حق کے شہیدو، وفا کی تصویرو

کرنل تصدق شاہ صاحب ہمارے نمل یونیورسٹی میں شاگرد تھے، گو انہوں نے براہ راست مجھ سے نہیں پڑھا لیکن وہ اکثر میری کلاس میں شوقیہ لیکچر سننے چلے آتے، پاک فوج میں حاضر سروس کرنل تھے، ان کا تعلق راولپنڈی اندرون شہر سے کمیٹی چوک کے قریب ایک محلے سے تھا۔

بین الاقوامی تعلقات کے شعبہ میں ایم اے کی غرض سے ایوننگ کلاسز میں داخلہ لے رکھا تھا، دن بھر کی دفتری مصروفیات بھی ان کے علم کی لگن اور جستجو کو ماند نہ پڑنے دیتی، وہ قومی جذبے اور ملک و قوم کی ترقی کے جذبے سے مالا مال تھے۔

کرنل تصدق شاہ پاکستان کو ایک جمہوری اور آئینی ریاست دیکھنا چاہتے تھے۔ میرے مشاہدے میں اس سے قبل بھی یہ بات آئی ہے کہ دوران سروس جو فوجی افسران اعلیٰ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں ان کے اندر آگے بڑھنے کی لگن اور ملک و قوم سے محبت قابل ستائش حد تک قابل رشک ھوتی ھے۔

دو روز قبل یہ المناک اطلاع ملی کے دل کے دورہ کے سبب کرنل تصدق شاہ انتقال فرما گئے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔

چند سال قبل ہمارے ایک اور ذہین فطین اور انتہائی شریف النفس طالب علم اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر میجر جنرل عاصی بھی شام کی کلاسز میں داخلہ لے کر حصول علم کے لیے تشریف لاتے۔

میجر جرنل عاصی کا تعلق سرگودھا سے تھا، ان کے کلاس فیلو اور ہمارے دوست سرفراز رانا نے میرا تعارف ان سے کرایا، پھر ڈاکٹر ریاض اور اشرف انصاری صاحب کے دفتر میں ان سے کئی تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں، ان کو بھی میں نے ایک درد مند پاکستانی پایا۔

وہ اکثر اپنی ناہموار اور تلخ زندگی کے حوالے سے سبق آموز واقعات سناتے۔

میں نے جنرل عاصی کو بغیر پروٹوکول یونیورسٹی کنٹین میں لائن میں کھڑا ہو کر چائے طلب کرتے دیکھا، ان کے ذاتی اسٹاف کو یونیورسٹی میں آنے کی اجازت نہ تھی۔ وہ کہا کرتے میں دن کو دفتر میں آرمی آفیسر ہوں لیکن شام کو محض طالب علم۔ ایک دفعہ ایک پروفیسر کو انہوں نے دوران کلاس انہیں سر کہہ کر بار بار مخاطب کرنے پر یاد کرایا کہ سر آپ ہیں جبکہ میں طالب علم ہوں۔

دوران تعلیم ناسازی طبع پر انہیں علم ہوا کہ انہیں برین ٹیومر ھے اور شاید وہ چند ماہ کے مہمان ہیں، انہوں نے آپریشن کرایا اور آپریشن کے بعد دوبارہ تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے لیے یونیورسٹی آنا شروع کردیا۔

ان کے چہرے پر گہرا سکوت ہوتا۔ اس دوران ان کی صحت بگڑتی چلی گئی اور یوں ایک روز اچانک وہ ہمیں کرنل تصدق شاہ کی طرح داغ مفارقت دے گئے۔

واقعی یہ لوگ قیمتی تھے، وہ چاہتے تو شام کو فراغت میں گالف کھیل سکتے تھے، پراپرٹی کا کاروبار کر سکتے تھے لیکن ان کی شامیں علم کی جستجو میں بسر ھوتی تھیں اور علم کی راہ میں گزر جانے والے شہید کہلاتے ہیں کیونکہ علم مومن کی گمشدہ میراث ھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site