پراپیگنڈا اور مایوسی، سٹیٹس کو کا بڑا ہتھیار

میں بچپن میں کسی بھی اسکول میں جانے کو تیار نہیں تھا اس لیے والد صاحب نے پانچویں تک خود پڑھانے کا فیصلہ کیا۔ صبح ان کے ساتھ ویسپا پر بیٹھ کر دکان پہ چلا جاتا تھا اور رات کو واپس آتا تھا۔ وہاں روزانہ اخبار کی سرخیاں اور اہم خبروں کی تفصیل پڑھ کر سنانا میرے فرائض میں شامل تھا اور یہ کام کئی سال جاری رہا اور پھر ہمیشہ کے لیے زندگی کا حصہ بن گیا۔

یہی وجہ ہے کہ سیاست کو سمجھنے میں مسلسل دلچسپی رہی۔ 90 کی دہائی کو پوری توجہ سے دیکھا۔ اس دوران سب سے اہم بات یہ سیکھی کہ جب طاقتور قوتیں مل کر کسی سیاستدان کو تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیں تو پہلے عوام میں اس کا تاثر خراب کیا جاتا ہے تاکہ جب آخری وار کرنے کا وقت آئے تو اس کے حق میں بولنے اور باہر نکلنے والے لوگوں کی تعداد محدود تر ہو۔ اس فن کو ن لیگ نے سب سے زیادہ عروج پر پہنچایا۔ اس میدان میں آج بھی ان کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔

بینظیر بھٹو نوے کی دہائی میں اس پراپیگنڈے کا سب سے بڑا شکار بنیں۔ انہیں اقتدار ملنے کے تھوڑے وقت بعد تنقید اور طنز کے ہلکے ہلکے سر بلند ہوتے، کوئی ایک مکھڑا شروع کرتا، پیچھے سے دوسرا طبلے پر ہاتھ مارتا، کہیں سے ہارمونیم کی دلگداز صدا بلند ہوتی، اس دوران دکھائی نہ دینے والے سامعین کی سسکیاں سنائی دینا شروع ہوتیں، دھیرے دھیرے ایک ماتمی فضا بنائی جاتی جس سے سننے والوں پر شدید مایوسی طاری ہونے لگتی تھی۔

شروع شروع میں ان تمام آوازوں میں آہنگ نہیں ہوتا تھا، سر کہیں جا رہی ہوتی تھی، سارنگی کوئی اور داستان سنا رہی ہوتی تھی، طبلے کی تھاپ کا رخ کسی اور جانب ہوتا تھا۔۔۔ پھر دھیرے دھیرے ان کے درمیان آہنگ پیدا ہونے لگتا اور ایک وقت آتا جب ہر سو ماتمی سر بکھرے ہوتے جو ملک کی فضاؤں میں اس وقت تک پھیلے رہتے جب تک حکومت ختم نہ کر دی جاتی۔

اس تمام پراپیگنڈا کے دو مقاصد ہوا کرتے تھے۔ ایک تو حکومت کی چھٹی کرانے سے پہلے اسے عوام کی نظروں میں گرانا تاکہ عوامی احتجاج نہ شروع ہو سکے۔ دوسرے اگلے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ووٹر کو مایوس کرنا تاکہ وہ ووٹ ڈالنے کے بجائے الیکشن کے دن گھر بیٹھا رہے۔ 1997 کے انتخابات میں بھی ایسے ہی ہوا تھا جس کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو جیسی قدآور اور مقبول رہنما کو قومی اسمبلی میں صرف 18 سیٹیں ملی تھیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بینظیر بھٹو سے غلطیاں بھی ہوئیں لیکن غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں؟ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ان غلطیوں کو حد درجہ بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا تھا۔ دوسری جانب اگر انہوں نے کوئی اچھا کام کیا تو اس میں اتنے کیڑے نکالے گئے کہ عوام اس اچھے منصوبے سے فائدہ بھی اٹھاتے رہے اور حکومت کو کوستے بھی رہے۔ بجلی کی شدید ترین لوڈ شیڈنگ بی بی شہید نے ختم کی تو ان پر مہنگی بجلی کے الزامات کی ایسی دھول اڑائی گئی کہ ان کا یہ کارنامہ اس میں چھپ گیا۔ انہوں نے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی تو سکھوں کی فہرستیں بھارت کو فراہم کرنے کا الزام لگا کر غدار ثابت کر دیا گیا۔۔

2018 کے انتخابات سے پہلے عمران خان کے خلاف بھی ایسی ہی مہم چلائی گئی جس کے باعث ایک بڑا طبقہ ان سے یا تو دور ہو گیا یا پھر کنفیوز ہو کر گھر بیٹھ گیا۔ یہ ن لیگ کا سب سے بڑا طریقہ واردات ہے کہ ایک منظم قسم کی مہم شروع کر کے ووٹر کو مایوس کیا جائے اور حکومت کے اچھے کاموں اور ان کی کامیابیوں میں کیڑے نکال کر ان کی اہمیت ختم کر دی جائے۔

اب بالکل ویسا ہی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہر بار اس پراپیگنڈا مہم میں مماثلت حیران کر دیتی ہے۔ دیکھا جائے تو اس حکومت کے مختصر عرصے میں بہت سے اچھے کام اور بہترین جمہوری روایات شروع ہوئی ہیں، پہلی بار کسی حکومت نے تمام تحقیقاتی رپورٹس پبلک کر دی ہیں تاکہ عوام کو علم ہو جائے کہ صورتحال کیا ہے مگر یہی اچھا کام انہی کے گلے ڈال کر الٹا اسے مجرم بنا دیا گیا۔ کورونا وبا سے پہلے تمام معاشی اشاریے بہتری کی طرف جا رہے تھے، مختلف شعبوں میں اصلاحات کا آغاز ہونے لگا تھا، عوام میں بھی اطمینان کی فضا نظر آ رہی تھی۔ پھر وبا آئی اور اس عفریت نے سب کچھ تباہ کر دیا۔ یہ مخالفین کے لیے بہت اچھا موقع تھا، تمام اپنے اپنے بلوں سے نکل آئے اور ایک شور بپا ہو گیا۔

ہر طرف سے ایک جیسی صدائیں بلند ہو رہی ہیں کہ مر گئے، لٹ گئے، حکومت ناکام ہو گئی، پارٹی میں پھوٹ پڑ گئی، اسٹیبلشمنٹ تنگ آ گئی ہے، غریب بھوکا مر گیا، کورونا ان سے کنٹرول نہیں ہو رہا۔۔ وغیرہ وغیرہ

یہ تمام حربے بار بار دیکھے ہوئے ہیں۔ ان کا اثر بھی دکھائی دے رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے کئی ہمدرد مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں، کوئی چڑچڑا ہو رہا ہے، کوئی اداس ہے، کسی کا چہرہ اترا ہوا ہے۔ ایک دور میں پیپلز پارٹی کے حامیوں کی بھی یہی حالت ہوا کرتی تھی۔ یہ تو بہت بعد میں انہیں سمجھ آتی تھی کہ ان کے ساتھ کیا ہاتھ ہوا ہے۔

حکومت نے بھی اس دوران کئی غلطیاں کی ہیں اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہر طرف سے شدید معاشی دباؤ موجود ہے، ٹیکس اپنے ہدف سے نو سو ارب روپے کے قریب کم ہوا ہے، ایکسپورٹ رکی ہوئی ہیں، کاروبار کا پہیہ جام ہے اور تمام حکومتی مشینری وبا پر قابو پانے میں مصروف ہے۔

ان تمام حقائق کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس تمام تر پراپیگنڈے سے متاثر ہونے سے خود کو محفوظ رکھنا اشد ضروری ہے۔ دو سال میں کوئی بھی حکومت معجزے نہیں دکھا سکتی، یہ توقع کرنا ایک بچگانہ رویہ ہے۔ عالمی وبا جیسی صورتحال میں تو ایسا ہونا بالکل بھی ممکن نہیں۔ چین، ترکی، ملائشیا اور دیگر ممالک میں بھی زوال سے دوچار قوم کو ترقی کے رستے پر گامزن کرنے میں پندرہ بیس سال لگ گئے۔ پہلے پانچ برسوں میں تو صرف آگے بڑھنے کے لیے بنیادیں رکھی جاتی ہیں۔ یہاں تو دو سال میں ہی کئی لوگ حوصلہ چھوڑنے لگے ہیں۔

اگر واقعی پاکستان کو ترقی کے رستے پر دیکھنا ہے تو پانچ سال اس حکومت کو دیکھتے رہیں اور جہاں اس سے غلطی سرزد ہو وہاں کھل کر تنقید کریں لیکن مایوسی کو قریب نہ آنے دیں۔ امید کی روشنی کے بغیر ایک انسان بھی زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکتا قوم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

آپ کیا سمجھتے ہیں کہ سٹیٹس کو کی قوتیں اور طاقتور مافیا خاموشی سے پیچھے ہٹ جائیں گے؟ یہ لوگ بھرپور مزاحمت کریں گے، عوام میں مایوسی پھیلائیں گے، پراپیگنڈے کے لیے اپنے خزانوں کے منہ کھول دیں گے، بڑے بڑے دانشوروں کو یا خرید کر لیں گے یا پھر انہیں بھی مایوسی کا شکار کر دیں گے۔۔۔ ایک طویل فہرست ہے ان حملوں کی جنہیں آپ آنے والے دنوں میں سامنے آتا دیکھیں گے۔

اس کا جواب صرف امید کو زندہ رکھنا ہے اور ان کی چالوں کو سمجھنا ہے۔ اگر امید کھو دی تو ملک سنوارنے کا یہ موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا اور ایک طویل عرصے کے لیے مایوسی کی تاریکیوں میں بھٹکنا پڑے گا۔ پھر فقط پچھتاوے دامنگیر ہوں گے اور سبھی ان مافیاز کے ہاتھوں یرغمال بنے بیٹھے ہوں گے۔

فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site