کورونا کے دوران بھی بیوروکریسی کی اسلام آباد کے پوش علاقوں میں پلاٹس کی بندر بانٹ

سابق فیڈرل سیکریٹری اور موجودہ ممبر وزیراعظم انسپیکشن کمیشن ابو احمد عاکف نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سمیت 9 بیوروکریٹس کو سیکٹر D-12 میں قیمتی پلاٹ الاٹ کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا۔ 

ایک طرف پاکستان کورونا کی وباء کے بد ترین حالات سے گزر رہا ہے، عوام بیروزگاری، کاروباری نقصانات اور صحت کی بد ترین سہولتوں کے کرائسس سے گزر رہی ہے اور دوسری طرف پاکستان کی ٹاپ بیوروکریسی اسلام آباد کے مہنگے ترین سیکٹر D-12 میں کروڑوں روپے کے پلاٹس الاٹ کرانے میں مصروف ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور گریڈ 22 کے 9 افسران کو نوازنے کیلئے 18 فروری 2020 کو سی ڈی اے بورڈ کی میٹنگ بلائی گئی جس میں سیکٹر D-12 کے لے آؤٹ پلان میں ترمیم کر کے نئے پلاٹ کی گنجائش پیدا کرنے کی منظوری دے دی گئی۔

تقریباً ایک ماہ بعد 9 مارچ 2020 کو مذکورہ افسران کو سی ڈی اے نے پلاٹس کے الاٹمنٹ لیٹر جاری کر دیے۔ وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان، وفاقی سیکریٹری ایوی ایشن ڈویژن حسن ناصر جامی، وفاقی سیکریٹری برائے شمالی علاقہ جات محمد اسلم، وفاقی سیکریٹری پیٹرولیم میاں اسد احیاالدین، وفاقی سیکریٹری پلاننگ ڈویژن ظفر حسن، ممبر کسٹم ایف بی آر محمد جاوید غنی، ممبر لیگل ایف بی آر فضل یزدانی خان، سابق وفاقی سیکریٹری اطلاعات شفقت جلیل اور اکانومسٹ گروپ کے گریڈ 22 کے افسر اعجاز علی شاہ واسطی کو D-12  سیکٹر میں پلاٹس الاٹ کرنے کے حکومتی فیصلے کو سابق وفاقی سیکریٹری اور وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کے موجودہ ممبر ابو احمد عاکف نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔

 اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کردہ اپنی آئینی درخواست میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ 1982 میں ڈی ایم جی گروپ سے انہوں نے اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ دوران ملازمت وہ گریڈ 22 میں بطور سیکریٹری کیبینٹ ڈویژن، سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی اور بین الصوبائی رابطہ کے سیکریٹری رہے۔ اگست 2018 میں ریٹائرمنٹ کی بعد انہیں دو سال کے لیے ممبر وزیراعظم انسپیکشن کمیشن تعینات کر دیا گیا۔

انہوں نے حکومتی فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس وقت 286 گریڈ 22 کے سینئر افسران کو نظر انداز کر کے اپنے من پسند جونیئر افسران کو پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ رولز کے مطابق گریڈ 22 کے افسران کو ایک پلاٹ ہاؤسنگ فاونڈیشن کے طریقہ کار کے تحت الاٹ کیا جاتا ہے۔ 22 نومبر 2007 میں اس وقت کے وزیر اعظم نے گریڈ 22 کے افسران کو دو پلاٹ دینے کے رولز کی منظوری دے دی۔ جس کے بعد گریڈ 22 کا افسر دو پلاٹوں کا حقدار ہو گیا۔

اس کیس میں سی ڈی اے بورڈ کی غیر قانونی میٹنگ بلا کر اور اس میں لے آؤٹ پلان میں ترمیم کر کے قانون کی خلاف ورزی کی گئی کیونکہ قانون کی رو سے ڈویلپڈ سیکٹر کے لے آؤٹ پلان میں کوئی ترمیم نہیں کی جاسکتی۔

ابو احمد عاکف نے اپنی درخواست میں کہا کہ اس وقت D-12 سیکٹر میں 500 گز پلاٹ کی قیمت ساڑھے چار کروڑ کے قریب ہے۔ لہذا اپنے من پسند بیوروکریٹس کو غیر قانونی طور پر پلاٹس الاٹ کر کے ان کو راتوں رات کروڑوں روپے کا ناجائز فائدہ دیا گیا۔

انہوں نے عدالت سے التجا کی ہے کہ ان بیوروکریٹس کو کی جانے والی غیر قانونی الاٹمنٹ اور اس الاٹمنٹ کے لیے کی جانے والی تمام کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔

عدالت نے تمام فریقوں سے جواب طلب کرتے ہوئے 20 جولائی کو کارروائی کی تاریخ مقرر کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site
کورونا کے دوران بھی بیوروکریسی کی اسلام آباد کے پوش علاقوں میں پلاٹس کی بندر بانٹ is highly popular post having 2 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB