توہین آمیز ویڈیو، سپریم کورٹ کا آغا افتخار کی معافی قبول کرنے سے انکار

آغا افتخار الدین مرزا کی توہین آمیز ویڈیو کیس میں سپریم کورٹ نے ملزم کی غیرمشروط معافی کی درخواست مسترد کر دی ہے اور 7 روز میں ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کیس کی سماعت کر رہا ہے، دوسرے جج جسٹس اعجازالاحسن ہیں۔

سماعت کی تفصیل

دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ بہت ساری چیزیں معاف نہیں ہوتیں، آغا افتخار الدین مرزا کو 6 ماہ کیلئے جیل بھیج دیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ملزم کی وکیل سے کہا کہ معافی نامہ پڑھیں، اس میں لکھا کیا ہے، اسے عام مقدمے کی طرح نہ لیں، آپ اس کیس کو بہت ہلکا لے رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افتخار الدین مرزا کو ابھی سزا سنا دیں گے، کئی ماہ جیل میں رہنا پڑے گا، آپ کو اس کیس کی نوعیت کا اندازہ نہیں ہے۔

افتخار الدین مرزا کی وکیل نے کہا کہ ملزم دل کا مریض ہے، اسپتال لیکر گئے ہیں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم کیا کریں، انہیں اپنی زبان کو قابو میں رکھنا چاہیئے تھا۔

دوران سماعت آغاز افتخار کی وکیل نے کہا کہ ان کے موکل نے غیر مشروط معافی نامہ جمع کرا دیا ہے، اس پر جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ معافی نامہ ہمارے سامنے نہیں ہے، جو الفاظ استعمال کیے گئے کیا ایسے الفاظ استعمال کیے جاسکتے تھے؟

انہوں نے استفسار کیا کہ ایسے مقدمے میں معافی نامہ کیسے دیں؟

ملزم کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ سماعت پر آغا افتخار عدالت عظمیٰ آئے تھے لیکن پولیس نے انہیں پیش نہیں ہونے دیا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق یہ فوجداری اور دہشت گردی کا جرم بھی بنتا ہے، ایسے مقدمات میں معافی نہیں ہوتی، معافی نامہ دینے کا فائدہ نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کے سامنے ملزم نے تسلیم کیا کہ 7 نمازیوں کے سامنے ویڈیو ریکارڈ ہوئی، ملزم نے معافی مانگ کر اپنا جرم تسلیم کر لیا ہے جبکہ آغا افتخار الدین مرزا کہہ رہے ہیں کہ میں نے جرم نہیں کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ معافی نامے کا بیان حلفی بھی قانونی طریقہ کار کے مطابق نہیں، سادہ کاغذ پر معافی نامہ لکھ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ آغا افتخار الدین مرزا کی شناخت اوتھ کمشنر کے سامنے کس نے کی، جسٹس اعجازالاحسن نے اس موقع پر کہا کہ اوتھ کمشنر تو آغا افتخار الدین مرزا کو نہیں جانتا۔

جسٹس اعجازالاحسن  نے کہا کہ افتحار الدین مرزا کی ویڈیو کسی بچے کی بنی ہوئی نہیں، ان کا اپنا ویڈیو چینل ہے جس سے وہ پیسے کماتے ہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ایسی زبان تو گلیوں میں بھی استعمال نہیں ہوتی اور ایک اسلامی اسکالر نے ایسی ویڈیو بنا کر دنیا کے سامنے پیش کر دی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس مقدمے میں کوئی رحم کی بات نہیں، آئندہ سماعت پر آغا افتخار الدین مرزا کو پیش کریں۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ معافی نامے اور دلائل میں تین مختلف موقف دیے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ منصوبہ بندی کے ساتھ ویڈیو بنائی گئی ہے اور اس میں تصویریں بھی شامل کی گئیں۔

آغا افتخار کی وکیل نے کہا کہ ملزم غریب بندہ ہے، اسے معاف کردیں، انسان سے غلطی ہو جاتی ہے، جسٹس اعجازالاحسن نے جواب میں کہا کہ یہ ادارے ہیں جن کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آغا افتخار نے عدلیہ اور ججز کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے، ان کے بیان نے عدلیہ کی ساکھ کو خراب کیا۔

انہوں نے کہا کہ آغا افتخارنے دل میں درد کی شکایت کی تو انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، انہیں چکر آ رہے تھے، اس پر جسٹس اعجازلاحسن نے کہا کہ عدالت کا نوٹس ہوگا تو چکر تو آئیں گے۔

عدالت نے سینئر صحافی حامد میر اور محمد مالک کے وکیل کو سننے سے انکار کر دیا، عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا لکھا ہوا خط لینے سے بھی انکار کردیا ، چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کچھ جمع کرانا ہے تو عدالتی طریقہ کار کے مطابق جمع کرائیں۔

بعد ازاں مقدمے کی سماعت 15 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site
توہین آمیز ویڈیو، سپریم کورٹ کا آغا افتخار کی معافی قبول کرنے سے انکار is highly popular post having 1 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB