کورونا وائرس: نیوزی لینڈ کے وزیر صحت ڈیوڈ کلارک عہدے سے فارغ

نیوزی لینڈ کے وزیر صحت ڈیوڈ کلارک نے کورونا بحران کے دوران چند بڑی غلطیاں کیں جس کے باعث انھیں عوام کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑا، آخر کار انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔

ڈیوڈ کلارک کے پاس وزیر صحت کا قلمدان اس وقت سے تھا جب 2017 میں لیبر پارٹی اقتدار میں آئی۔ انھیں شروع سے ہی ایک غیر موثر وزیر کے طور پر دیکھا گیا اور انہیں اپنا لوہا منوانے کیلئے بہت جدو جہد کرنا پڑی۔

نیوزی لینڈ میں لاک ڈاؤن کے دوران کلارک نے دو بار سماجی دوری اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کی، ایک دفعہ لاک ڈاؤن کے دوران وہ پہاڑوں میں ہائیکنگ کرنے چلے گئے جبکہ دوسری بار وہ اپنی فیملی کو ساحل سمندر پر سیر کرانے لے گئے جو ان کے گھر سے 23 کلومیٹر کی دوری پر واقع تھا۔

کلارک نے عوام اور وزیراعظم جیسنڈا آرڈن سے ان دونوں واقعات کی معافی مانگی اور کہا کہ وہ احمق تھے۔

وزیراعظم کی جانب سے کلارک کی تنزلی کر دی گئی تھی لیکن انھیں نکالا نہیں گیا تھا۔ جیسنڈا آرڈن نے کہا تھا کہ اس مشکل وقت اور ہیلتھ ایمرجنسی میں انھیں کلارک کی ماہرانہ رائے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ اس صورتحال میں وہ حکومت کو مستحکم رکھنا چاہتی ہیں۔

مئی میں لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد کلارک نے کئی بار پریس کانفرنس میں بری کارکردگی دکھائی، وہ اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتے تھے۔ اس کے ساتھ قرنطینہ سے ٹیسٹ کئے بغیر جانے کی اجازت دینا، سرحد پر قرنطینہ سے متعلق کئی غلط فیصلے اور اپنی ذمہ داری تسلیم نہ کرنا جیسے مسائل ان کے استعفیٰ کی وجہ بنے۔

اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے انھوں نے وزیر بلوم فیلڈ کو قصور وار ٹھہرایا جس کے بعد انھیں عوام کی جانب سے مزید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیراعظم آرڈن نے تصدیق کی ہے کہ انھوں نے کلارک کا استعفیٰ منظور کر لیا ہے اور اب وزیر صحت کا قلمدان وزیر تعلیم کرس ہپکنز کو سونپ دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site