عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آ گئی، سنسنی خیز انکشافات

عزیر بلوچ کی جوائنٹ انوسٹی گیشن رپورٹ سامنے آ گئی ہے جس میں سنسنی خیز انکشافات کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق عزیر بلوچ نے 198 افراد کے قتل کا اعتراف کیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس نے بابا لاڈلہ اور جبار لنگڑا کے ذریعے رزاق کمانڈو کے بھائی کو 2010 میں قتل کرایا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ نے اپنے اثرورسوخ کے باعث 7 ایس ایچ اوز تعینات کرائے، اس نے اقبال بھٹی کو ٹی پی او لیاری تعینات کرانے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

عزیر بلوچ نے کراچی کی شیر شاہ کباڑی مارکیٹ میں لسانی بنیادوں پر قتل کا اعتراف کر لیا، ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے جبار لنگڑا کے ذریعے شیرشاہ کباڑی مارکیٹ میں 11 افراد کو قتل کرایا۔

جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق شیر شاہ کباڑی مارکیٹ میں قتل عام مخالف سیاسی جماعت کو بھتہ دینے کے شبے پر کیا گیا۔

ملزم نے جے آئی ٹی کو بتایا ہے کہ اگرچہ وہ ملک سے فرار ہو گیا تھا لیکن ماہانہ لاکھوں روپے کا بھتہ دبئی بھیجا جاتا رہا۔

عزیربلوچ کی جےآئی ٹی رپورٹ  35 صفحات پر مشتمل ہے

عزیر بلوچ نے اعتراف کیا 6 نومبر 2012 کو اسکے کہنے پر پیپلزپارٹی کے ملک محمد خان کو قتل کیا گیا۔

ارشد پپو کا قتل

عزیر بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے اپنے باپ کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے   مارچ 2013 میں ارشد پپو کو قتل کرایا، اس کا کہنا ہے کہ پولیس افسران اورگینگسٹرز کی مدد سے اس نے ارشد پپو کو قتل کرایا تھا۔

ملزم کا کہنا ہے کہ ارشد پپو کے قتل میں کئی پولیس انسپکٹرز کی مدد لی تھی، ارشد پپو کو اغوا کرنے کیلئے  پولیس موبائل کا بندوبست انسپکٹر یوسف بلوچ نے کیا تھا۔

جے آئی ٹی میں بتایا گیا ہے کہ ارشد پپو اور دیگرمغویوں کو آدم ٹی گودام میں لایا گیا جہاں اسے 2 ساتھیوں سمیت قتل کر کے نعش جلا دی گئی اور پھر راکھ گٹر میں بہا دی گئی۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site
عزیر بلوچ کی جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آ گئی، سنسنی خیز انکشافات is highly popular post having 1 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB