ایرانی کرنسی کی قدر میں بڑی کمی، ایک ڈالر کی قیمت ڈھائی لاکھ ریال سے بڑھ گئی

ایران کی غیرسرکاری مارکیٹ میں ریال کی قدر میں کمی مسلسل جاری ہے، موجودہ سال کے دوران ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قدر آدھی رہ گئی ہے، اس کی وجہ کورونا وبا اور امریکی پابندیاں بتائی جاتی ہیں۔

غیرسرکاری مارکیٹ میں جمعہ کو ایک ڈالر 2لاکھ 42 ہزار 500 ریال کا تھا جو ہفتے کو بڑھ کر 2 لاکھ 55 ہزار 300 تک پہنچ گیا۔

گزشتہ ماہ سے ایرانی کرنسی کی قدر میں مسلسل کمی جاری ہے، تیل کی قیمتوں میں کمی اور عالمی معیشت پر چھائی کسادبازاری کے باعث ایران سخت مشکلات کا شکار ہے۔

سرکاری طور پر خوراک اور ادویات کی درآمد کے لیے ایک ڈالر 42 ہزار ریال کے برابر قرار دیا گیا ہے۔

مئی 2018 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کثیرالمکی معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے اقتصادی پابندیاں عائد کر دی تھیں جنہوں نے معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے ریال کی قدر میں کمی کا الزام برآمد کنندگان پر عائد کیا ہے جو اپنی بیرون ملک کمائی واپس نہیں لا رہے، انہوں نے مرکزی بینک کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایکسپورٹ کی کمائی کو واپس لانے کے حوالے سے قواعد پر عملدرآمد کرائے۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site