آن لائن کلاسز اور منفی رویے

پاکستان میں تعلیمی نظام ایک طویل عرصے سے  سست روی کا شکار ہے جسکے ذمہ دار ہمارے حکمران ہیں جنہوں نے تعلیم کے ساتھ سوتیلی ماں کی طرح رویہ رکھا۔ رہی سہی قصر 18ویں ترمیم نے پوری کر دی جس کے تحت وفاق نے تعلیم کا شعبہ صوبوں کے سپرد کر دیا حالانکہ تمام ترقی یافتہ ممالک میں تعلیم وفاق کے زیر نگرانی ہوتی ہے۔ پاکستان میں جب تعلیم کے ساتھ ایسا سلوک دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔

گزشتہ کئی ماہ سے کورونا وائرس کی وجہ سے معیشت کے ساتھ ساتھ تعلیم کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے جس سے طالب علموں کی تعلیم میں بہت حرج ہو چکا ہے۔ وزیر تعلیم شفقت محمود نے فیصلہ کیا کہ سیکنڈری و انٹرمیڈیٹ سطح کے طالب علموں کو پچھلے نمبروں کی بنیاد پر پروموٹ کر دیا جائے گا جبکہ ایچ ای سی کی مشاورت سے یہ طے پایا کہ جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں آن لائن تعلیم دی جائے۔

دنیا بھر میں آن لائن تعلیم نئی بات نہیں ہے لیکن پاکستان میں اتنی بڑی سطح پر اسے پہلی بار متعارف کرایا گیا ہے اس لیے طلبہ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں کوئی خاص لرننگ مینجمنٹ سسٹم موجود نہیں ہے، جہاں موجود ہیں وہاں ہم تکنیکی طور پر اسکے استعمال سے نا آشنا ہیں۔اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے فیصلہ تو کر دیا گیا ہے لیکن انہیں وسائل فراہم کرنے کی بات نہیں کی گئی نا ہی ایسی حکمت عملی اپنائی گئی جس سے ان کا فائدہ ہو سکے۔ جامعات میں آن لائن کلاسوں کا کوئی تجربہ موجود نہیں تھا اس لیے زوم، گوگل کلاس روم یا مائکروسافٹ ٹیم کی مدد لی گئی اور استاتذہ کو ان کے استعمال کے بارے میں تربیتی کورس کرایا گیا۔

کورونا وائرس کی وجہ سے ان تمام طلباء کو اپنے آبائی شہر و دیہات واپس جانا پڑا جو ہاسٹلز میں قیام پذیر تھے۔ پاکستان کا زیادہ تر حصہ دیہات پر مشتمل ہے جہاں وسائل نا ہونے کے برابر ہیں یہی وجہ ہے کہ آن لائن کلاسوں کے معاملے میں طلبہ انٹرنیٹ سگنلز، لوڈ شیڈنگ اور موبائل سگنلز جیسے سنگین مسائل کی شکایات کر رہے ہیں۔ سندھ، بلوچستان، خیبر پختون خواہ، گلگت بلتستان اور پنجاب کے پسماندہ علاقوں میں طلبہ کو انٹرنیٹ کے حصول کے لیے شدید گرمی میں گھروں سے دور جانا پڑتا، یہ طریقہ کار مردوں کے لیے تو پھر بھی ممکن ہے لیکن خواتین کو اس میں بہت مشکلات کا سامنا ہے۔

انہی مسائل کی وجہ سے طلبہ میں آن لائن کلاسز کی وجہ سے بے چینی پائی گئی ہے جسکا اظہار سوشل میڈیا پر ” وی ریجیکٹ آن لائن کلاسز” (ہم آن لائن کلاسز کو مسترد کرتے ہیں) اور ” سمسٹر بریک” جیسے نعرے لکھ کر کیا گیا جبکہ ٹویئر پر یہ” ٹاپ ٹرینڈ” بھی بن چکا ہے۔

مزید یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جامعات کی جانب سے ان سے پوری فیس کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ایچ ای سی نے طالب علموں کی جانب سے اگلے سمسٹر میں پروموٹ کرنے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ جبکہ وائس چانسلر کمیٹی کے سربراہ نے یہ تجویز پیش کی کے جن طالبات کو مشکلات کا سامنا ہے وہ سمسٹر کو فریز کرا دیں۔

انہی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے طالب علموں نے ملک گیر احتجاج کیا گیا، ان کے مطالبات تھے کہ پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کی فری سہولیات میسر کی جائیں اور ضروری آلات بھی دیئے جائیں، فیسوں میں 70 فیصد کمی ہونی چاہیے، تعلیم میں جی ڈی پی کو بڑھایا جائے جبکہ ان طلبہ کو پرموٹ کیا جائے جو آن لائن کلاسز لینے سے قاصر ہیں۔ اس احتجاج کو ختم کرنے کے لیے حکومتی اہلکاروں کی جانب سے طلبہ کو چند مطالبات ماننے کا لولی پاپ دے دیا گیا۔

آن لائن کلاسس کے دوران کئی مسائل پیش آ رہے ہیں، دوران کلاس آئی ڈیز کے الگ نام رکھے جاتے ہیں، طالب علم لیکچر کے دوران ہنسی  مذاق یا جھگڑا کرنے لگتے ہیں جس سے پڑھنے والا ماحول خراب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بعض طالب علم سہولت ہونے کے باوجود انٹرنیٹ نا ہونے کا بہانہ کر رہے ہیں جبکہ کچھ آن لائن کلاسوں میں آ کر غائب ہو جاتے ہیں اور اساتذہ کو جواب بھی نہیں دیتے۔ کچھ طالب علموں کی جانب سے آئی ڈیز ہیک ہونے کی شکایت سامنے آئی ہے، بعض کا شکوہ ہے کہ انہیں کلاس سے نکال یا بلاک کر دیا جاتا ہے۔

پیپرز میں انٹرنیٹ یا لوڈشیڈنگ جیسے مسائل کے باوجود بعض اساتذہ کی جانب سے رویہ میں سختی دیکھی گئی ہے البتہ بعض اساتذہ طالب علموں کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے انکی حمایت بھی کر رہے ہیں اور انکے ساتھ نرم رویہ اختیار کر رہے ہیں۔

آن لائن کلاسز کا ایک بڑا نقصان یہ ہے کہ اس میں نقل کے 100 فیصد امکانات ہیں، اس طرح بہترین نمبر تو حاصل کیے جا سکتے ہیں لیکن ضمیر کو کیسے مطمئن کیا جا سکے گا۔

سوال یہ ہے کے ہم سیکھ کیا رہے ہیں اور سکھایا کیا جا رہا ہے کیونکہ مستقبل میں اسکا خمیازہ کسی نا کسی صورت بھگتنا پڑے گا۔ اس مشکل حالات میں جامعات کو طلباء طالبات کا سہارا بننا چاہیئے تھا لیکن جامعات کے متکبر رویہ نے انہیں باغی بنا دیا ہے۔ کچھ جامعات کی جانب سے احتجاج اور سوشل میڈیا پر اظہارِ خیال کرنے کی پاداش میں جرمانہ اور جامعات سے نکالنے کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ طلبہ کی ذہنی نشو نما تعلیمی نظام کا ایک اہم حصہ ہے، اس لیے انہیں اظہارِ خیال کی مکمل آزادی حاصل ہونی چاہیے۔ جامعات کو یہ کردار ادا کرنا ہوگا کہ وہ طالب علموں کے ذہنوں کو قید خانوں میں قید نا کریں جو اپنا تجزیہ پیش کرنے سے قاصر ہوں۔  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site