بڑا عجیب شخص تھا وہ۔۔۔۔ عارف تھا وہ

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو جس نے اپنے پیاروں کی موت کا دکھ نا سہا ہو۔ آپ کے بہت ہی پیارے اس دنیا سے چلے گئے۔ میرے بھی کئی عزیز از جاں اس جہاں سے رخصت ہو گئے۔ موت کو فطری عمل قرار دے کر آپ خود کو تسلی تو دے سکتے ہیں لیکن کسی پیارے کے یوں اچانک چلے جانے سے دل میں جو ایک گھاؤ لگتا ہے، ذات میں جو ایک خلا سا پیدا ہوتا ہے، اسے پورا کون کرے گا؟

اس دنیا میں کوئی شخص تم جیسا نہیں

اس دنیا میں ایک شخص آپ کی مثل موجود ہے اور وہ صرف آپ ہیں۔ اسی طرح ہمارے راہی عدم جانے والوں کی مثل کوئی نہیں آئے گا۔

یہی بات انسان کو مار ڈالتی ہے۔ زندگی میں ایک ٹیس اور کسک بن کر رہ جاتی ہے۔ زندگی کی امنگ اور ترنگ بے رنگ سی محسوس ہوتی ہے۔

 میرے یار جانی عبدالرحمن مانی کی لیہ سے کال آئی کہ رانا عجاز فوت ہو گئے ہیں۔ تب سے اب تک ایک اداسی اور بے ثباتی سی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ رانا اعجاز کی وفات کا سن کر ڈاکٹر نعیم کلاسرا رہ رہ کر مجھے کیوں یاد آ رہے ہیں؟ رانا اعجاز اور ڈاکٹر نعیم کی طرح دار ملاقاتیں، ٗدھواں دار بحثیں، عادات وصفات اور یادوں کا ایک سیلاب سا امڈ آیا ہے جسے بیان کرنے کے لیے مجھے یہ سارا تردد کرنا پڑ رہا ہے۔

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے

ڈاکٹر نسلِ انسانی کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک وہ جو ڈاکٹر ہیں اور دوسرے وہ جو ڈاکٹر نہیں ہیں اور جن کے علاج کے لیے ڈاکٹروں کو عالمِ بالا سے اتارا گیا ہے۔ ڈاکٹر مسیحِ ثانی ہیں اور بالائی قسم کی اعلیٰ وارفع چیزے دیگر است! دوسرے وہ جو عام انسان ہیں۔ خاکی ہیں۔ مٹی سے پیدا کیے گئے ہیں۔ لہٰذہ زمینی مخلوق ہیں۔ی وں تو ڈاکٹر نعیم بھی آنکھوں کے ڈاکٹر تھے۔ لیکن ساری عمر ڈاکٹر ہاسٹل کے کمرہ نمبر 47 میں دوستوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر زندگی گزار دی۔ میں نے ڈاکٹر اشو لال فقیر کے علاوہ کوئی ڈاکٹر ان کا دوست نہیں دیکھا۔ بس ایک ڈاکٹر شہزاد قادر تھا۔ وہ بھی ہماری طرح متاثرین میں سے۔۔۔ سامعین کی طرح۔۔۔ناظرین میں سے! شاید ڈاکٹر نعیم نے دوسرے ڈاکٹروں کو، ان کے خبط عظمت کے باعث، اپنے بارگاۂ تقرب میں قربت کی اجازت ہی نا دی۔ بڑا عجیب شخص تھا وہ۔۔۔عارف تھا وہ!

ملاقاتِ خضر و مسیحا

میری ڈاکٹر نعیم سے پہلی ملاقات تب ہوئی جب ربع صدی پیش تر، میں اور رؤف کلاسرا اعلیٰ تعلیم کے حصول کے سلسلے میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کے ہوسٹل ابوبکر ہال میں مقیم ہوا کرتے تھے۔ ڈاکٹر نعیم ایک بار ملتان تشریف لائے تو رؤف کلاسرا نے اپنے بڑے بھائی سے میرا تعارف کرایا۔ وہی ایک تعارف، تعارف سے تعلق، تعلق سے دوستی، دوستی سے محبت اور محبت سے ہوتا ہوا عقیدت میں بدل گیا۔ مگر یہ کیسے ہوا۔۔۔؟ یہی میں آپ کو بتانے جا رہا ہوں۔

ڈاکٹروں کی شقاوتِ قلبی کا کفارہ

اپنے حسنِ سلوک، بے مثال محبت اور انسان دوستی سے گویا تمام ڈاکٹروں کی شقاوتِ قلبی، بے رحمی، دھن پرستی، خبطِ عظمت، انسانیت سوز سلوک اور روپے پیسے کے لالچ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ساتھ انسان دشمن معاہدوں سمیت، ڈاکٹروں کے تمام گناہوں کا ڈاکٹر نعیم نے کفارہ ادا کر دیا تھا۔ بڑا عجیب شخص تھا وہ ۔۔۔ عارف تھا وہ!

نگری نگری پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا

میں نے اپنی زندگی کی ربع بھر صدی پاکستان کے بڑے شہروں، ہوسٹلوں اور دفتروں میں گزار دی۔ حصولِ تعلیم کے سلسلے میں کئی یونیورسٹیوں کے دھکے کھائے۔ سیاسی ورکر اور جرنلسٹ ہونے کے ناطے تمام رنگ و نسل کے مختلف العمر افراد، تمام فرقوں کے زعمائے عظام، علمائے کرام، مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کے چھوٹے بڑے سیاست دان، میرے ارد گرد ابھرتے ڈوبتے رہے۔ اور ہم فقیروں کا بھیس بنائے تماشائے اہلِ کرم دیکھتے رہے۔ اور میں نے زمانے میں کیا دیکھا اور ڈاکٹر نعیم میں کیا پایا اور کیا سمجھ میں آیا؟ یہی کلائمیکس ہے۔  

ڈاکٹر بھی گورنر اسٹیٹ بنک ہوتے ہیں؟

کئی برس میڈیکل کالج کے ہوسٹلوں میں ڈاکٹروں کے ساتھ رہائش پذیر رہا۔ لیکن ان جیسے رٹو طوطوں، دولت پرستوں، کاریں بدلنے، کوٹھیاں، پلازے، جاگیریں اور عوام کو بے وقوف بنانے کے علاوہ چند ڈاکٹر ہی ایسے دیکھے ہیں جو انسانیت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔ دوسرے ڈاکٹر نا ہوئے گورنر اسٹیٹ بنک ہو گئے، جس کے دستخطوں سے کاغذ کا ایک ٹکڑا گراں قدر نوٹ میں بدل جاتا ہے۔ ڈاکٹر کی ایک پرچی بھی پل بھر میں ہزاروں روپوں کا روپ دھار لیتی ہے۔ ہوئے نا گورنر اسٹیٹ بنک۔۔۔! لیکن ڈاکٹر نعیم۔۔۔؟ بس آپ میرے ساتھ چلتے جائیں اور دیکھتے جائیں۔

میں نے آج تک ڈاکٹر نعیم کے پاس کار حتیٰ کہ کٹھارا قسم کی موٹر سائیکل تک نا دیکھی۔ جب کہ دوسرے ڈاکٹر ہمارے سنتے کانوں اور دیکھتی آنکھوں روزانہ لاکھوں روپے کما لیتے ہیں۔ ڈاکٹر نعیم بھی میڈیکل سائنس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کر چکا تھا۔ آنکھوں کا ایف۔ آر۔ سی۔ ایس۔ تھا۔ چاہتا تو چند مہینوں، برسوں میں لاکھوں کروڑوں کما سکتا تھا۔

ع پر طبیعت ادھر نہیں آتی۔

بڑا عجیب شخص تھا وہ۔۔۔ عارف تھا وہ!

حالات کے قدموں میں قلندر نہیں گرتا

مجھے آج تک کوئی شخص ایسا نہیں ملا جس نے ڈاکٹر نعیم کا گلہ کیا ہو، جب کہ آج ڈاکٹر نعیم ہم میں نہیں ہے، کوئی دوست ایسا نہیں جس کی ڈاکٹر نعیم نے عملی طور پر مدد نا کی ہو۔ آج تک کسی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا کہ فلاں مسئلے میں، میں نے ڈاکٹر نعیم پر احسان کیا تھا۔ آج تک کسی کام کے سلسلے میں کسی سیاست دان کے ڈیرے پر گئے نا کسی افسر کے دفتر، کسی عرض اور غرض کے لیے، خواہ کیسی ہی مجبوری اور ضروری کیوں نا ہو؟ کسی کے در پر نا گھر پر۔۔۔ بڑا عجیب شخص تھا وہ۔۔۔ عارف تھا وہ!

ڈاکٹر اور وکیل بالعکس متناسب ہوتے ہیں

میرے ایک وکیل دوست عبد الجبار خان جوئیہ کہتے ہیں۔ ایل۔ ایل۔ بی۔ اور جرنلزم کا امتحان پاس کرنا یعنی وکیل یا صحافی بننا آسان لیکن اس کے بعد جس قدر وسعتِ مطالعہ، عرق ریزی اور ژرف نگاری کی ضرورت پڑتی ہے، وہ ہر ہما شما کے بس کی بات نہیں۔ وکالت کا پھٹہ کوئی برف یا گوشت کا پھٹہ نہیں۔ ہر آدمی ٹرک یا موٹر سائیکل تو چلا سکتا ہے لیکن وکالت کا پھٹہ نہیں۔ الخ۔۔۔ لیکن ڈاکٹر بننے کے لیے انسان کو زندگی کے ابتدائی 25 برس مغز ماری کرنا پڑتی ہے۔ پِتا مارنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد عیش ہی عیش۔ زمین پر ہی گویا جنت بکہ جنت الفردوس مل گئی۔ عورت اور دولت آپ کے پیچھے باؤلی ہوئی پھرتی رہتی ہے۔ دولت کا تماشا آپ صبح شام دیکھتے رہتے ہیں۔ پردے کے پیچھے دیکھیں تو عورت کا حال بھی ایسا ہی نظر آئے گا۔ ڈاکٹر نعیم نے آنکھوں کے علاج کے حوالے سے ایف۔ آر۔ سی۔ ایس۔ کیا لیکن شادی کی نا ہی کلینک کھولا۔ میں نے کہا نا! بڑا عجیب شخص تھا وہ۔۔۔ عارف تھا وہ!

 اس کے بعد بھی پیسے کمانے، کاریں اور کوٹھیاں بنانے کے بجائے ساری عمر پڑھتا ہی رہا۔ دنیا بھر کا لٹریچر، شاعری، تاریخ، سیاسیات، نفسیات، جدلیات اور نا جانے کیا کچھ پڑھ ڈالا۔ اتنا سارا پڑھنے کے باوجود اپنے میڈیکل کے شعبے سے فرار حاصل کرنے کے بجائے اس میں کمال حاصل کیا۔ آنکھوں کا پیچیدہ سے پیچیدہ کیس ڈاکٹر نعیم کو ریفر کیا جاتا تھا۔

 پچھلی صدی کی آخری دہائی کے آخری برس کے آخری دنوں کی بات ہے۔ (جن قارئین کو ہمارا یہ طوالت بیاں ناگوار گزرے وہ اسے پچھلی صدی کی آخری دہائی کے آخری برس کے آخری دنوں کے بجائے، دسمبر 1999 ء بھی پڑھ سکتے ہیں۔ ہمیں آپ کی سہولت عزیز ہے)۔ مجھے اور میرے یار جانی عبدالرحمن مانی کو چند ماہ وکٹوریا اسپتال کے ڈاکٹر ہاسٹل عباس منزل میں ڈاکٹر نعیم کے ہمراہ کمرہ نمبر 47 میں رہنے کا اتفاق ہوا۔ رات بھر نفسیات، سیاسیات، تاریخِ عالم، نظام ہائے حیات اور لٹریچر پر گفتگو رہتی۔ کبھی کبھار صبح کے 4 بج جاتے۔ میں اور یار جانی صبح دن چڑھے بیدار ہوتے تو ڈاکٹر نعیم کو کمرے سے ہمیشہ غائب ہی پایا۔ دو ماہ میں کوئی دن ایسا نہیں گزرا جب ڈاکٹر نعیم نے کہا ہو کہ میں آج اسپتال نہیں جاؤں گا، آج میری طبیعت خراب ہے۔ پھر وہی بات، بڑا عجیب شخص تھا وہ۔۔۔ عارف تھا وہ۔

عباس منزل، قلندر کا مَن در اور 47 نمبر

اسی کمرہ نمبر47 میں کلچر اور تہذیب پر کئی دنوں کے کئی گھنٹوں پر محیط گفتگو رہی۔ پروفیسر ٹائن بی کی ”A study of history” اور ول ڈیورانٹ کی”The story of civilization” پر ڈاکٹر نعیم کی اسرار بھری گفتگو، تہذیبوں کے عروج وزوال کی کہانی، تہذیب وتمدن کا ہزاروں برس کا سفر اسی کمرے میں طے ہوا۔ ہائے ہھائے ڈاکٹر نعیم! اتنی بھید بھری گفتگو اب کہاں سے سننے کو ملے گی؟

                        ع    تیرا کیا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

اسی کمرہ نمبر47 میں معلوم دیا کہ ان متذکرہ بالا کتب کی بالترتیب کی بڑے سائز کی 11 اور دوسری کی دس جلدیں ہیں اور ہم نے پڑھنا تو کجا، یکجا دیکھی تک نہیں۔

کلینک بہ دوش ڈاکٹر

ڈاکٹر نعیم ہر سال عید بقر عید پر اپنے گھر لیہ (یعنی بستی جیسل) تشریف لاتے تو سامان سے لدے پھندے ہوتے۔ ایک دو کارٹن، ایک آدھ بیگ ساتھ ہوتا جس میں جوتے، کپڑے اور دیگر ضروریاتِ زندگی کا سامان نہیں ہوتا تھا۔ میڈیسن سے بھرے ہوتے تھے۔ (ان ادویات کے استعمال کا ذکر آگے چل کر اپنے مقام پر آئے گا)۔ میں، یار جانی، قاضی احسان ایڈووکیٹ اور میرے صحافی دوست ظہور قاضی ہر عید پر ڈاکٹر نعیم سے ملنے بستی جیسل جایا کرتے تھے۔

درد تجھے ہوئے تو آنکھ مری روئے

ڈاکٹر نعیم جب بھی گھر بار سے باہر کسی کو ملنے جاتے تو ایک عدد چھوٹی ٹارچ، ایک لیٹر پیڈ اور ایک بال پوائنٹ یار جانی کو ساتھ رکھنے کی تلقین کرتے۔ راستے میں جو بھی ملتا ڈاکٹر نعیم سے مصافحہ کرنے کے بعد اس کا دوسرا ہاتھ اپنی آنکھوں پر ہوتا۔ ہاتھوں کی انگلیوں سے آنکھوں کا پپوٹا کھول کر کہتا، ڈاکٹر صاحب! آنکھ سے پانی بہت بہتا ہے، کوئی دوائی لکھ دیں، ڈاکٹر نعیم اسی وقت، کھڑے کھڑے، وہیں پر اپنا کلینک کھول لیتے۔ یار جانی سے ٹارچ لے کر مریض کی آنکھ چیک کرتے اور ترنت دوائی لکھ دیتے۔ مریض دوائی تو بازار سے لے ہی آئے گا؟ نہیں۔۔۔ ہر گز نہیں، دوائی اس کو ملے گی ڈاکٹر نعیم کے گھر سے۔ کیوں کہ وہاں دوائیوں کے دو کارٹن اور ایک بیگ بھرا رکھا ہے۔ کوئی فیس نہیں، کوئی بل نہیں۔ یقین نہیں آتا نا! میں نے کہا نا بڑا عجیب شخص تھا وہ۔۔۔ عارف تھا وہ۔

جیسل کے جیلس لوگ

ڈاکٹر نعیم تمام عمر لوگوں میں بینائی اور دانائی بانٹتا رہا۔ لوگوں کو بصارت تو مل گئی، بصیرت نا مل سکی۔ ڈاکٹر نعیم کے کھو جانے کا غم نا اس کی موت کا احساسِ زیاں۔ دل خون کے آنسو روتا ہے، جب ڈاکٹر نعیم کے مخالفین، اپنی برادری اور اپنی بستی کے لوگ ڈاکٹر نعیم کی عین برسی کے دن  21 فروری کو سرائیکی کانفرنس کی آڑ میں جشن مناتے ہیں۔ حالانکہ سرائیکی کانفرنس کے انعقاد کی تاریخ ایک آدھ دن آگے پیچھے بھی تو کی جا سکتی ہے؟ سرائیکی کانفرنس میں بڑے بڑے دانش ور اور شاعر شریک ہوتے ہیں جن میں سے اکثر ڈاکٹر نعیم کے دوست ہوتے ہیں۔

       ع     ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

کسی کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ ڈاکٹر نعیم کی قبر پر فاتحہ ہی پڑھ آئے یا دو آنسوؤ ں کا نذرانہ عقیدت ہی پیش کر دے۔ آپ خود ہی بتائیں ڈاکٹر نعیم مر گیا ہے یا یہ مر چکے ہیں؟

ڈاکٹر نعیم ہم شرمندہ ہیں

ڈاکٹر نعیم تیری ہر برسی پر تیرے مخالفین سرائیکی کانفرنس کی آڑ میں روٹیاں، بوٹیاں کھاتے اور دعوتیں اڑاتے ہیں۔ کلچرل شو کی آڑ میں محفلِ موسیقی اور ناچ گانا ہوتا ہے۔ نام نہاد آزادی اور ترقی پسندی کی آڑ میں شراب، چرس اور گانجے کا آزادانہ استعمال ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نعیم ہم شرمندہ ہیں، تیری ہر برسی پر تیری روح کو بے چین کیا جاتا ہے۔ جن کے لیے تو زندگی بھر بے چین رہا وہ تیری قبر میں تجھے چین سے سونے نہیں دیتے۔ ڈاکٹر نعیم ہم شرمندہ ہیں، ہم دکھ اور غم کے اظہار کے سوا کچھ نہیں کر سکتے؟؟؟؟ تیری برسی پر، تیری قبر پر آنسو بہانے، تجھے یاد کرنے اور تجھے خراجِ عقیدت پیش کرنے کے بجائے تیری قبر کے پہلو میں لہو ولعب کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر نعیم ہم شرمندہ ہیں۔

شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے کانفرنس کے ناظرین، سامعین اور حاضرین کے لیے جنھوں نے سرفروشی کی تمنا کے بجائے ضمیر فروشی شروع کر رکھی ہے۔ زمین کے چند مرلوں کی خاطر۔۔۔ چند ٹکوں کی خاطر۔ ڈاکٹر نعیم ہم شرمندہ ہیں۔ ڈاکٹر نعیم ہم جانتے ہیں یہ زمین ایسے ہی اپنی جگہ پر پڑی رہ جائے گی۔ لیکن ہمیں یہ یقین نہیں ہے کہ ہم ایک دن تہہ زمین چلے جائیں گے۔ ڈاکٹر نعیم ہم شرمندہ ہیں، ہم سر زمین کی عزتوں اور رشتے داریوں کو داؤ پر لگائے بیٹھے ہیں۔ کیوں کہ ہمیں یقین نہیں ہے کہ ہم نے ایک دن تہہ زمین میں منوں مٹی تلے دھنس جانا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں تہ زمین میں چند فٹ جگہ ہی کافی ہے۔

ڈاکٹر نعیم ہم شرمندہ ہیں۔۔۔ ڈاکٹر نعیم ہم کس منہ سے زندہ ہیں۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site