حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کے میڈیا پر بیان دینے پر پابندی عائد کر دی

حکومت نے سرکاری ملازمین کے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بیان دینے پہ پابندی عائد کر دی ہے اور کہا ہے کہ ان پلیٹ فارمز پر بات کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے تنبیہی مراسلہ وزارتوں، ڈویژنوں اور متعلقہ اداروں کو بھجوا دیا گیا جس میں تمام وفاقی سیکرٹریز، ایڈیشنل سیکرٹریز اور چیف سیکرٹریز کو رولز پر عمل کرانے کی تاکید کی گئی ہے۔

مراسلے میں لکھا گیا ہے کہ گورنمنٹ سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 1964 کے تحت حکومت سے واضح اجازت لیے بغیر میڈیا پلیٹ فارمز پر بات نہیں کر سکتا۔

مراسلے کے مطابق یہ رولز سرکاری ملازمین کے حکومتی پالیسی یا آئیڈیالوجی کے خلاف بات کرنے سے روکتے ہیں کیونکہ ان سے پاکستان کی سیکیورٹی، دیگر ریاستوں سے دوستانہ تعلقات کو نقصان، توہین عدالت اور دیگر کئی معاملات کا باعث بن سکتے ہیں۔

اسی طرح یہ رولز حکومتی ملازموں کو کسی بھی قسم کے ایسے مظاہروں سے روکتے ہیں جو حکومت کے فیصلوں یا پالیسی کے خلاف کیے جائیں۔

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ رول 22 بھی سرکاری ملازمین کو ایسے بیانات، حقائق یا رائے دینے سے روکتا ہے جو حکومت کے لیے پریشانی اور شرمندگی کا باعث ہو۔

مراسلے کے مطابق رول 18 سرکاری ملازمین کو کوئی سرکاری دستاویزات یا معلومات غیر مجاز ملازم یا غیرسرکاری شخص کو دینے سے روکتا ہے۔ گورنمنٹ سرونٹس رولز 1964 پر مکمل طور پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، ان ہدایات کی خلاف ورزی پر گورنمنٹ سرونٹس رولز 1973 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اس مراسلے کے سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد صارفین کی جانب سے حکومتی فیصلے پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site