عامر سہیل نے 1999 کا ورلڈ کپ ہارنے کی وجوہات بتا دیں، شاہد آفریدی پر تنقید

پاکستان کرکٹ کے سابق کپتان عامر سہیل اپنے منہ پھٹ انداز کے باعث معروف ہیں اور اس صاف گوئی کے باعث ماضی میں کئی تنازعات بھی کھڑے کر چکے ہیں۔

حال ہی میں ان کا ایک اور بیان سامنے آیا ہے جس پر سوشل میڈیا اور دیگر حلقوں میں کافی بات ہو رہی ہے، یوٹیوب پر ایک ویڈیو میں انہوں نے 1999 کے عالمی کپ میں پاکستان کی ناکامی کی وجوہات بتاتے ہوئے شاہد آفریدی کے متعلق بھی گفتگو کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ اس ورلڈ کپ میں شاہد آفریدی کو شامل کرنے اور سعید انور کے ساتھ انہیں اوپننگ کے لیے بھیجنے کے خلاف تھے۔

عامر سہیل نے کہا کہ برطانوی گراؤنڈز پر شاہد آفریدی اوپننگ کے لیے مناسب انتخاب نہیں تھے کیونکہ ان کا کھیلنے کا انداز یہاں کام نہیں کر سکتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بیٹنگ کے آغاز کے لیے محمد یوسف کو بھیجنے کے حق میں تھے تاکہ وہ نئی گیند کے خطرے کو ٹال سکیں۔

انہوں نے کہا کہ جب میں 1998 میں ٹیم کا کپتان تھا تو ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ورلڈ کپ کے لیے ہمیں ایسے باقاعدہ اوپنرز کی ضرورت ہے جو وکٹ پر ٹھہر سکیں اور نئی گیند کو کھیل سکیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی نظر آتی ہے کہ سیلیکٹرز نے ایسے گراؤنڈ پر شاہد آفریدی کو اننگز کا آغاز کرنے کے لیے بھیج دیا حالانکہ وہ فلیٹ اور کم باؤنس والی پچز پر کھیل سکتے تھے جہاں وہ گیند بازوں کو دباؤ میں لا سکتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی پچز پر انہیں کھلانا ایک بہت بڑا جوا تھا کیونکہ وہ یہاں نہ ہی بیٹنگ کر سکتے تھے اور نہ ہی بالنگ، اگر وسیم اکرم کی جگہ میں کپتان ہوتا تو میری ترجیح محمد یوسف ہوتے۔

عامر سہیل کے مطابق پاکستان کے ورلڈ کپ ہارنے کی دو وجوہات تھیں، پہلی وجہ یہ تھی کہ ٹیم کا کمبینیشن بہترین نہیں تھا اور دوسرے فائنل میں ٹاس جیت کر ایسی پچ پر پہلے بلے بازی کا فیصلہ تھا جہاں تمام دن بارش ہوتی رہی۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site