ناقص نظام اور حادثات

(ترجمہ: سعدیہ اسلم)

وزیر ہوا بازی سرور خان نے کراچی طیارہ حادثہ کے بعد یہ بیان جاری کیا کہ پی آئی اے میں 260 پائلٹس کے پاس ہوا بازی کا جعلی لائسنس موجود ہے جبکہ ادارے کے پاس ایسے 481 پائلٹس ہیں جو مکمل تربیت یافتہ ہیں۔ اس بیان سے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا بھر میں تشویش کی لہر پھیل چکی ہے۔ 

پاکستان میں پائلٹ بننا ایک آئیڈیل پیشہ تصور کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس میں شمولیت اختیار کرنے والے معاشرے میں اونچے طبقات کے افراد کے ساتھ سماجی رابطے قائم کرتے ہیں اور اپنے پیشے سے ملنے والے اقتدار و وقار سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

پاکستان میں لائسنس کا ایک غیر قانونی کاروبار بن چکا ہے جو پہلے صرف ڈرائیورنگ تک محدود تھا لیکن وزیر ہوا بازی کے بیان کے بعد یہ گمان ہوتا ہے کہ اب یہ ہوا بازی کے پیشے میں بھی اپنی جڑیں مضبوط کر چکا ہے۔ اداروں میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ لائسنس کے حصول کے خواہشمند افراد ہوا بازی یا ڈرائیونگ کی اہلیت رکھتے بھی ہیں یاں نہیں۔ انکی نااہلی کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا نہ صرف تاثر خراب ہو رہا ہے بلکہ معصوم جانوں کا ضیاع بھی ہو رہا ہے۔

سڑکوں پر حادثات چند سالوں میں ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے جس کے اثرات نہ صرف انسانی زندگی پر بلکہ اقتصادی طور پر بھی نظر آ رہے ہیں۔ دنیا بھر میں تقریبا سالانہ 10 لاکھ افراد ان حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہوتے ہیں جبکہ 50 لاکھ شدید زخمی و عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 3500 حادثات رُونما ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 35 ہزار لوگ ٹریفک حادثات میں ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ 50 ہزار سے زائد افراد زخمی اور عمر بھر کی معذوری سے دوچار ہوتے ہیں۔

پاکستان میں سڑکوں پر ہونے والے حادثات کے نتیجے میں زخمیوں کی طبی امداد، حادثات سے ہلاک ہونے والے لواحقین کی جانب سے اخراجات، گاڑیوں سے اخراج ہونے والے زہریلے مادے اور اسکی وجہ سے صحت کے گرتے ہوئے معیار کے حوالے سے ہر سال 9 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

ڈرائیور حضرات کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات کے پیچھے ثقافتی و سماجی مسائل ہیں جس سے غیر محفوظ ڈرائیونگ جنم لیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹریفک سگنل کا توڑنا، اوور سپیڈنگ، سیٹ بیلٹ کے استعمال میں لاپروائی و غفلت اور ٹریفک قوانین کے بارے میں ناقص معلومات اور ان پر عمل نہ کرنا، گاڑیوں میں ہونے والی تکنیکی خرابیاں، گاڑی کا ٹائر پکنچر ہونا، یا محدود مدت کے بعد ٹائروں کی حفاظت و تبدیلی نہ کرانا، پیدل چلنے والوں کی طرف سے لاپروائی کا مظاہرہ وغیرہ جیسے عوامل حادثات کو بڑھا رہے ہیں، ڈرائیورز کی لاپروائی و غفلت گاڑیوں کی تکنیکی خرابی سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔

قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ڈرائیور سے منسلک کچھ حقائق قابلِ غور ہیں۔ تحقیق میں افراد سے سوال کیا گیا کہ کیا انہوں نے سڑکوں کے تحفظ کے حوالے سے کسی تربیتی ادارے یاں سیمنار میں کبھی شرکت کی ہے؟ اس کے جواب میں 80 فیصد افراد نے نفی میں جواب دیا۔ 98 فیصد اپنے گھر والوں یا دوست احباب سے گاڑی چلانا سیکھتے ہیں جبکہ 2 فیصد افراد کسی تربیتی ادارے سے تربیت حاصل کرتے ہیں۔ 48 فیصد ڈرائیورز کے پاس سرے سے لائسنس ہی موجود نہیں ہے لیکن پھر بھی یہ سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں۔ 52 افراد ایسے ہیں جن کے پاس جعلی و اصلی لائسنس موجود ہے مگر ان کی کوئی جانچ پڑتال نہیں کی جاتی۔

پاکستان میں ٹریفک اور ہوائی حادثات میں جاں بحق ہونے والے اکثر ایسے افراد ہوتے ہیں جو اپنے گھر کی کفالت کر رہے ہوتے ہیں، ان کی اچانک موت سے کنبہ کا ہر فرد متاثر ہو کر رہ جاتا ہے۔ ان خطرناک حادثات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو سمارٹ لائسنس کا نظام متعارف کرانا ہوگا۔ ڈرائیورز اور پائلٹس کے رویوں کو درست سمت میں لانے کے لیے زیادہ سے زیادہ سیمنارز اور ٹریننگ سینٹر کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسکول، کالجز، یونیورسٹیز اور دیگر شعبوں میں ایسے سیمینار اور ٹریننگ سینٹر عام کرنے ہوں گے جن میں ٹریفک پولیس، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، 1122 کے اہلکار اور میڈیا کے نمائندے شریک ہوں۔

اس کے علاوہ ان تربیتی اداروں پر جرمانہ عائد کرنے کی اشد ضرورت ہے جو جعلی و غیر قانونی لائسنس کو فروغ دے رہے ہیں کیونکہ ایسے ادارے معاشرے کا نظام اور ساخت خراب کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ پاکستان میں جدید لائسنس کے نظام کے متعارف ہونے سے بہت سی قیمتی جانوں سمیت وسائل کو بچایا جا سکے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی ادارے بغیر کسی تاخیر کے اس نظام کے بارے میں سنجیدگی احتیار کریں تاکہ آنے والی نسلوں کو ایسے حادثات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site