کراچی کے عوام بارش کے پانی میں ڈوب گئے

شہری حکومت، سندھ حکومت اور کنٹونمنٹ بورڈ اختیارات اور محکموں کی بندر بانٹ کی لڑائی لڑتے رہے جبکہ معیشت کی کمر سمجھے جانا والا شہر کراچی بارش کے پانی میں ڈوب گیا ہے۔
کراچی شہر جسے منی پاکستان کہا جاتا ہے حکومتوں اور اداروں کی نااہلی کی وجہ سے بارش کے پانی میں ڈوب گیا اور چند گھنٹوں میں آسمانوں سے برستے پانی نے اسے وینس شہر بنا دیا۔
2019 میں بھی بارش نے حکومت اور اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا تھا، اس وقت بھی سندھ حکومت، شہری حکومت اور وفاقی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈالتے رہےاور میڈیا و سوشل میڈیا پر عوام کو بےوقوف بناتے رہے تھے۔
2019 میں شہری حکومت نے سپریم کورٹ میں ایک رپورٹ پیش کی کہ اس کے 18 کے قریب محکمے کوئی اور چلا رہا ہے، ان محکموں کے اختیارات اور وسائل پر شہری حکومت کا حق ہے، ان محکموں میں مویشی منڈی، شہری ٹول ٹیکس، چارجڈ پارکنگ جائیدار کی خریدوفروخت کی فیس، ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کی ٹاور فیس، ٹریفک انجینئرنگ سول ڈیفنس، ساحل سمندر پلاننگ اینڈ ڈویلمنٹ، سڑکوں پلوں کی مرمت، اسٹریٹ لائیٹس کے شعبے اور برساتی  نالے وغیرہ کے شعبے شہری حکومت کے پاس نہیں ہیں اور ان محکموں کی فیس اور ٹیکس کی مد میں حاصل والی آمدنی پر بھی شہری حکومت کا حق جو اس کی بجائے سندھ حکومت لے رہی ہے۔
کراچی میں اس وقت واٹر سیوریج بورڈ بھی سندھ حکومت کے ماتحت ہے، اس کے علاوہ کراچی کے کنٹونمنٹ بورڈز اور ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اپنا نظام چلا رہے ہیں، کراچی شہر اس وقت بد ترین انتظامی ناکامی کا شکار ہے آج کی بارش کے بعد ایک شہر میں درجنوں شہری محکمہ اور ان کے ہزاروں ملازمین ہونے کے باوجود بد انتظامی اور اختیارات کی لڑائی کی وجہ سے عوام اور انکی املاک کو نقصان ہوا ہے۔
ہزاروں افراد، گاڑیاں اور مویشی بارش کے پانی کی نذر ہو گئے، اس وقت کراچی میں پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم قومی اسمبلی کی سیٹوں پر براجمان ہیں لیکن دونوں جماعتیں وفاق میں اتحادی ہوتے ہوئے بھی کراچی کی تعمیر نو کے لیے کوئی میگا پراجیکٹ شروع کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
کراچی میں 2019 کے الیکشن میں عوام نے پی ٹی آئی کا واضح مینڈیٹ دیا تھا، قومی اسمبلی کی 21 میں سے 13 نشستیں اور صوبائی اسمبلی کی 43 میں سے 22 نشستیں جیت کر کراچی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر آئی تھی۔اس الیکشن میں کراچی کے عوام نے بلاول بھٹو زرداری کےمقابلےپر پی ٹی آٹی کےکارکن کو جتا کر اپ سیٹ کیا تھا، اس کے علاوہ سندھ کے گورنر اور صدر پاکستان کا تعلق بھی کراچی شہر سے ہے جو یہاں اپنی سیاست کرتے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے کراچی کے عوام کے لیے پی ٹی آئی کی حکومت ابھی تک کوئی ترقیاتی پیکج نہیں لا سکی اور سوائے وزیراعظم عمران خان کےکچھ دورے کراچی کے عوام کو تسلی کرانے کےلیے کیے گئے اور صرف وعدے کرنے پراکتفا کیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site