افغان طالبان نے جیل کی محافظ لڑکی کو اغوا کے بعد قتل کر دیا

افغان طالبان نے غزنی صوبے میں جیل کی محافظ لڑکی کو اغوا کے بعد قتل کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 23 سالہ فاطمہ رجبی منی بس کے ذریعے اپنے گاؤں واپس آ رہی تھی جب طالبان نے بس روک کر اسے اغوا کر لیا۔

دو ہفتے قید میں رکھنے کے بعد طالبان نے لڑکی کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا اور اس کی لاش لواحقین کو بھجوا دی۔

فاطمہ رجبی کے بھائی کا کہنا ہے کہ میری بہن کو 8 بار گولیاں ماری گئیں، جب ہم نے تابوت کھولا تو اس کے ہاتھ پشت کی طرف تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ باندھ کر گولیاں ماری گئیں اور بعد میں انہیں کھول دیا گیا۔

اقوام متحدہ نے پیر کو جاری کی گئی اپنی رپورٹ میں رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں عوام کو ہونے والے نقصانات کے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال طالبان کی جانب سے اغوا اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں اغوا کے بعد قتل کے واقعات میں 5 گنا اضافہ ہو چکا ہے، 6 ماہ کے اندر 1300 شہری قتل جبکہ 2200 زخمی ہوئے ہیں، ہلاکتوں کی ذمہ داری 43 فیصد طالبان اور 23 فیصد افغان فورسز پر عائد کی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں 40 فیصد خواتین اور بچے ہیں، افغان فورسز نے طالبان کی نسبت زیادہ بچوں کو قتل کیا ہے۔ فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتیں 2019 کی نسبت 3 گنا زیادہ ہو گئی ہیں۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site