چمن: سرحد پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز میں جھڑپیں، 3 افراد جاں بحق

چمن میں باب دوستی سرحد پر مظاہریں اور سیکیورٹی فورسز میں جھڑپوں کے دوران 3 افراد جاں بحق اور 27 زخمی ہوئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کئی ہفتوں بعد پیدل چلنے والوں کے لیے باب دوستی پر سرحد کھولی گئی تاکہ دونوں طرف کے افراد عید پر اپنے اپنے ممالک جا سکیں۔

اس دوران بڑی تعداد میں لوگ آ کر بیٹھ گئے اور سرحد عبور کرنے کے لیے دھرنا دے دیا، فرنٹئر کور کے عملے نے انہیں گیٹ سے ہٹنے کا کہا مگر انہوں نے انکار کر دیا۔

ایف سی نے کہا کہ جب تک لوگ نہیں ہٹیں گے گیٹ بھی نہیں کھلے گا، اس دوران افغان شہریوں کی بڑی تعداد نے گیٹ کراس کرنے کی کوشش کی اور گیٹ نہ کھولنے کی وجہ سے ایف سی پر حملہ کر دیا۔

مظاہرین نے ایف سی اور نادرا کے دفاتر کو آگ لگا دی، سیکیورٹی فورسز نے ہوائی فائرنگ کی لیکن سرحد کے دونوں اطراف مزید لوگ جمع ہو گئے اور انہوں نے قرنطینہ سنٹر کو آگ لگا دی۔

سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں شروع ہوئیں تو ابتدائی طور پر 3 افراد ہلاک ہو گئے، بعد ازاں 4 مزید افراد نے اسپتال میں دم توڑ دیا۔

مظاہرین اس کے بعد چن شہر میں پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے تمام بازار اور مارکیٹیں بند کرا دی اور سڑکیں بلاک کر دیں۔

حکام کے مطابق اس دوران افغان فوجیوں نے فائرنگ شروع کر دی جس کا پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے بھی جواب دیا۔

لیویز حکام کے مطابق مظاہرین کیساتھ جھڑپوں میں 3 لیویز اور 4 ایف سی اہلکار پتھراو سے زخمی ہو گئے۔

بعد ازاں صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو کی قیادت میں وزیراعلیٰ کمیٹی چمن پہنچ گئی جہاں باب دوستی سے متعلق اجلاس ہو گا۔

پاک فوج اور ایف سی کی اعلیٰ بھی قیادت چمن پہنچ گئی ہے جہاں مظاہرین سے ملاقات کا امکان ہے۔

باب دوستی پر فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں اور پاک افغان بارڈر ہر قسم کی آمدورفت کےلیے بند

وزیردخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے کی مذمت کرتا ہوں، ملک دشمن عناصر اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاک افغان بارڈر کی بندش کی بنیادی وجہ دہشت گردی تھی۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site