جے یو آئی رہنما نے ن لیگ، پیپلزپارٹی کو حکومت کے سہولت کار قرار دے دیا

جے یو آئی ف کے پارلیمانی لیڈر اور مولانا فضل الرحمان کے فرزند مولانا اسعد محمود نے پی پی اور ن لیگ کو حکومتی سہولت کار قرار دے دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں تحریکوں کے دوران اپوزیشن جماعتوں سے گلے شکوے اپنے اندر دبائے رکھے، مولانا فضل الرحمان نے اے پی سی کے لیے زرداری صاحب اور شہباز شریف سے بھی ملاقاتیں کیں، اب میں سوچ رہا ہوں کہ کل کی ملاقاتوں کے بعد اس کا کیا نتیجہ ہو گا؟

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اسپیکر قومی اسمبلی کے گھر ہونے والی اپوزیشن اور حکومت کی ملاقاتوں پر بھی تحفظات ہیں، یہ ملاقاتیں پارلیمنٹ کے اندر کیوں نہیں ہوئیں؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسپیکر ہاؤس میں حکومت، پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے درمیان کونسی ملاقاتیں ہوئیں؟ ہمیں ان ملاقاتوں پر اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟ اسپیکر نے ہمیں دعوت دی یا نہیں یہ الگ بات ہے مگر اپوزیشن جماعتیں تو ہمیں بتا سکتی تھیں۔

انہوں نے مزید استفسار کیا کہ ایسی صورتحال میں  اب رہبر کمیٹی کہاں کھڑی ہو گی اور رہبر کمیٹی کے بعد اے پی سی کہاں کھڑی ہو گی؟ یہ سوالات اور تحفظات میرے ذہن میں بھی ہیں ۔

مولانا اسعد محمود نے کہا کہ  ہم لاحاصل نہیں بلکہ نتیجہ خیز تحریک چلانا چاہتے ہیں، اگر قوم کے لیے تن تنہا بھی تحریک چلانا پڑی تو نتیجے کی پرواہ کیے اور سوچے بغیر فرض سمجھ کر چلائیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی پر اپنا موقف ایوان میں دینا چاہتے تھے لیکن کل بھی ہمیں نہیں سنا گیا اور آج بھی نہیں سنا گیا اور ایسا تاثر دیا گیا کہ ہم اختلاف برائے اختلاف کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم نے ہمیشہ قانون سازی میں اہم کردار ادا کیا ہے، آئین پر حملے روکنے میں بھی ہم سنجیدہ تھے، ہم سمجھتے ہیں کہ منظور ہونے کے بعد بھی ان دونوں بلوں  میں سقم باقی ہے۔

جے یو آئی (ف) کے رہنما نے مزید کہا کہ یہ تاثر دیا گیا کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی ترامیم اپوزیشن کی ترامیم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنھوں نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بل پیش کیا، ان کے قانون دان ہونے پر اعتراض نہیں لیکن وہ خود مجبور اور بے اختیار ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا کل فلور پر بیان آ گیا تھا کہ اب حکومت کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے پھر اچانک اتنی بڑی پیشرفت ہو گئی کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے راتوں رات ترامیم پیش کر دیں  اور وہ ترامیم آج منظور بھی ہو گئیں۔

مولانا اسعد محمود نے کہا کہ گزشتہ رات ہونے والی پیشرفت پر ہمارے تحفظات ہیں، متحدہ مجلس عمل اپوزیشن کی تیسری بڑی جماعت ہے۔ اسپیشل کمیٹی میں بھی ہماری نمائندگی موجود ہے۔

 انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہمارا اپوزیشن لیڈر ہے، گلگت بلتستان میں بھی ہمارا اپوزیشن لیڈر تھا، تین صوبوں میں ہم اپوزیشن کو لیڈ کر رہے ہیں تو کیا ہم نظام کے اندر وقعت نہیں رکھتے؟

ان کا کہنا تھا کہ جن کی صرف کاغذی جماعتیں ہیں انھیں اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ ہم تحفظات کے باوجود پاکستان کے عوام کی مشکلات سمجھ رہے ہیں۔ یہ بھی پتہ ہے کہ حکومت رہی تو مشکلات میں اضافہ ہو گا۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site