2200 سال قبل چین میں دہری شہریت کا مسئلہ

یہ آج سے کوئی 2200 برس پہلے کی بات ہے جب چین 7 ریاستوں میں بٹ چکا تھا اور یہ تمام ریاستیں 200 سال سے ایک دوسرے کے ساتھ لڑ رہی تھیں۔ اتنی طویل خانہ جنگی نے اس وسیع ملک کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا۔

ان میں سے ایک ریاست چن تھی جس کے بادشاہ کی موت پر اس کے 13 سالہ شہزادے کو تخت پر بٹھایا گیا، اس ناتجربہ کار شہزادے کو 9 سال محلاتی سازشوں کا سامنا کرنا پڑا اور 22 سال کی عمر میں جا کر اس نے اپنی سازشی ماں، اس کے عاشق اور دربار کے سب سے طاقتور وزیر سے جان چھڑائی۔ ماں کو تو اس نے قید کر دیا مگر اس کے دو کم عمر بیٹوں اور ان کے باپ کو قتل کرا دیا جبکہ طاقتور وزیر نے زہر کھا کر خودکشی کر لی۔

اس بادشاہ کو دنیا چن شی ہوانگ کے نام سے جانتی ہے۔ اس نے سازشوں کا خاتمہ کرنے کے بعد دوسری ریاستوں کے قابل افراد کے لیے دربار کے راستے کھول دیے اور ان سے فائدہ اٹھانے لگا۔ ان افراد کو جدید دور میں دہری شہریت کا حامل سمجھا جا سکتا ہے۔

مخالف ریاست چو سے تعلق رکھنے والا نوجوان لی سا ایک بہترین قانونی دماغ تھا جسے بادشاہ نے دربار میں اہم جگہ دی۔ اسی طرح ہان ریاست سے تعلق رکھنے والے ایک انجینئر ژان کوا کو اس نے ایک بڑی نہر بنانے کا کام سونپا جو دارالحکومت کے اردگر کے وسیع مگر بنجر علاقے کو سونا اگلنے والی زمین میں بدل سکتی تھی۔

بادشاہ کو اس کے مقامی مشیروں نے ان غیرملکیوں کے خلاف بھڑکایا اور کہا کہ ژان کوا ایک جاسوس ہے جو ریاست کے وسائل کو ضائع کرنے کے لیے یہاں بھیجا گیا ہے۔ بادشاہ نے ان کی باتوں میں آ کر دہری شہریت کے حامل ان مشیروں کو اپنی ریاست سے جلاوطن کرنے کا فیصلہ کیا۔ لی سا نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہوئے بادشاہ کو ایک طویل خط لکھا جس میں دیگر ریاستوں کے قابل افراد کو جلاوطن کرنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے حق میں دلائل لکھے۔ نوجوان بادشاہ ان دلائل سے متاثر ہو گیا اور اپنا فیصلہ بدل دیا۔ اس فیصلے نے چین کی تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

ژان کوا نے طویل عرصہ اور غیرمعمولی لگن کے ساتھ نہر تعمیر کی جس کی بدولت زراعت کو فروغ ملا اور ریاست دیگر تمام مخالف ریاستوں سے کئی گنا زیادہ دولتمند ہو گئی۔ خزانہ بھرنے کے بعد بادشاہ چن شی ہوانگ اس قابل ہو سکا کہ وہ ایک وسیع فوج تیار کر کے مخالفین کو شکست دے سکے۔

بادشا نے اس کے بعد مڑ کر نہیں دیکھا اور ایک کے بعد دوسری ریاست کو شکست دیتا گیا اور آخر کار اس نے چین کو ایک مرتبہ پھر متحد کر کے ایک ملک کی شکل دی اور چن بادشاہت کا آغاز ہوا ۔ چین کو متحد کرنے کے بعد اس نے نظام حکومت مکمل طور پر تبدیل کر دیا، جاگیرداری کا خاتمہ کیا گیا اور ملک کو 36 صوبوں میں تقسیم کر دیا۔ ریاستی اہلکار میرٹ کی بنیاد پر متعین کیے جاتے تھے۔ وسیع پیمانے پر کی گئی ان اصلاحات کے پیچھے لی سا کا زرخیز ذہن کام کر رہا تھا جسے اس نے اپنا وزیراعظم بنا دیا تھا۔

ایک دہری شہریت والے شخص نے نہر کا تصور پیش کیا جس کی وجہ سے اس کی ریاست خوشحال ہو گئی اور وہ بڑی فوج رکھنے کا متحمل ہو سکا۔ جب اس فوج نے ملک کو متحد کر دیا تو دوسرے دہری شہریت رکھنے والے شخص نے ملک میں اصلاحات کا نظام قائم کیا جس کی تفصیلات حیرت انگیز ہیں۔ اس نے جس ملک کو متحد کیا تھا وہ آج بھی جدید چین کی شکل میں موجود ہے۔

اگر وہ اپنے مقامی مشیروں کی بات مان کر دوسری ریاست سے آئے قابل مشیروں کو جلاوطن کر دیتا تو دو سو سال کی خانہ جنگی میں مزید جاری رہتی، نہ ہی ملک متحد ہو پاتا اور نہ ہی خوشحالی کا دور شروع ہوتا۔

امریکہ کی تاریخ پڑھی جائے تو اسے دنیا کی طاقتور ترین ریاست بنانے میں دیگر ممالک سے آنے والے تارکین وطن کا کردار بہت اہم ہے۔ اس موضوع پر کی گئی تحقیقات کی ایک طویل فہرست ہے اور تمام رپورٹس یہی بتاتی ہیں کہ نہ صرف امریکی معیشت بلکہ اس کے معاشرے کو بھی شکل دینے میں غیرملکی تارکین وطن نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔ ایمازون، ایپل، گوگل اور یاہو جیسی بڑی کمپنیوں کے بانی یا تو تارکین وطن تھے یا پھر ان کی اولادیں ہیں۔ دیگر امیر ترین ممالک کی ترقی میں بھی غیرملکیوں کا کردار بہت نمایاں ہے۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں غیرملکیوں کو بلانا تو ممکن نہیں لیکن جو پاکستانی اپنی صلاحیتوں سے غیرممالک کو فائدہ پہنچا رہے ہیں، انہیں ملک میں واپس لایا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ تیار کرنے اور مکمل فوکس کے ساتھ اس پر عملدرآمد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں وہی تنخواہ ملنی چاہیئے جو وہ غیرممالک میں لے رہے ہیں اور مفلوج بیوروکریسی سے انہیں محفوظ رکھنا بھی اشد ضروری ہے۔ اگر ہم چینی انجینئرز اور ماہرین کی حفاظت کے لیے فوج کو استعمال کر سکتے ہیں تو ملک میں واپسی کے خواہشمند سمندر پار پاکستانیوں کو تحفظ اور اہمیت کا احساس دلانے کے لیے بھی ایک لائحہ عمل تیار کیا جا سکتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ جو پاکستانی بیرون ملک سے واپس آئے ہیں انہیں پی ٹی آئی کی اپنی صفوں میں ہونے والی سازشوں اور میڈیا کے دباؤ میں آ کر یہاں سے بھگایا جا رہا ہے۔ اس کا نہ صرف پی ٹی آئی کو نقصان ہو گا بلکہ ملک کی ترقی کے لیے ایک ضروری عنصر بھی کمزور پڑ جائے گا۔ تانیہ ایدروس اور ڈاکٹر ظفر مرزا جیسے لوگوں سے استعفیٰ لینے کے بعد غیرملک میں رہنے والے پاکستانیوں کے لیے واپس آکر ملک کی خدمت کرنے کا جذبہ بھی سرد پڑ جائے گا۔ اس سے یہ تاثر بھی پھیل رہا ہے کہ یہ حکومت مضبوطی سے فیصلے کرنے کے بجائے کمزوری کا شکار ہو جاتی ہے۔ تقاریر اور تقریبات میں جن لوگوں کی تعریف کی جاتی ہے کچھ عرصہ بعد وہ راندہ درگاہ ٹھہرتے ہیں۔ یہ رویہ حکومت کی کریڈیبلٹی متاثر کر رہا ہے۔ دہری شہریت رکھنے والے ماہرین کی پاکستان کو اشد ضرورت ہے۔ اس حوالے سے تذبذب اور ہچکچکاہٹ کی پالیسی بدلنے کی ضرورت ہے۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site