صحافیوں پر اعلانیہ اور غیراعلانیہ سنسرشپ عائد ہے، پاکستان بار کونسل

وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی نے کہا ہے کہ اظہار رائے اور بولنے کی آزادی کی گنجائش کم ہو رہی ہے، انسان وہی ہے جو اپنے خیالات کا اظہار کر سکے، اظہار رائے پر پابندی سے انسان نفسیاتی قید کا شکار ہو سکتا ہے، ہم سب کو مل جل کر قومی سطح پر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔

ملک بھر کی بار کونسلوں کے نمائندے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی اور صحافی دوست ہمارے ساتھ شامل ہوں، ہم اظہار رائے کی آزادی کے لیے مل جل کر مہم چلائیں گے، صحافیوں اور میڈیا ہاؤسز پر اعلانیہ اور غیراعلانیہ سینسرشپ عائد کی جا رہی ہے، اگر آواز نہ اٹھائی جاتی تو شاید مطیع اللّٰہ کبھی ریکور نہ ہو پاتا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ ہم اپنے ساتھ سیاسی جماعتوں کو شامل کر کے ستمبر کے وسط میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرائیں گے، آٹیکل 175 اے اور ججز کی تقرری کے حوالے سے قومی نقطہ نظر پیش کیا جائے گا، عالمی استحصالی قوتیں پاکستان کو قانون سازی پر مجبور کر رہی ہیں، نیب قانون کے حوالے سے بھی مشاورت کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم آل پارٹیز کانفرنس میں سیاستدانوں کو جگانے کی کوشش کریں گے، وہ راتوں رات ڈر گئے اور آرمی چیف کی توسیع کے بل کے لیے ووٹ دیا، اگر ججز کی تقرری قانونی طریقے سے نہ ہوئی تو ہم آئندہ یہ تقرریاں نہیں ہونے دیں گے۔

عابد ساقی نے مزید کہا کہ ججز کی تقرری کا طریقہ کار مایوس کن صورتحال کی جانب جا چکا ہے آئین کے آرٹیکل 175-اے کی روح کو مسخ کیا جا چکا ہے پارلیمنٹ کی کمیٹی کی اہمیت ختم کر دی گئی ہے، بار ایسوسی ایشن اور بار کونسل کے ججز کو اقلیت میں تبدیل کیا جا چکا ہے، ججز کی تقرری میں شفافیت کو ختم کر دیا ہے، اصلی اسٹیک ہولڈرز کو سائیڈ پر کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسٹیک ہولڈرز کو سائیڈ لائن کیا جائے گا تو ججز کو لانے والی قوتیں حاوی ہو جائیں گی، معاشرے کو ایسی جانب دھکیلا جا رہا ہے جہاں انصاف ناممکن ہو جائے گا، معاشرہ کفر کی بنیاد ہر تو قائم رہ سکتا ہے انصاف کے بغیر نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا صدیاں لگا کر پرائیویسی کی اسٹیج پر پہنچی ہے اور ایف اے ٹی ایف کے تحت صارف کی معلومات اداروں کو شیئر کرنے کا کہا جا رہا ہے، میری معلومات اداروں کو دینا میرے آئینی حق کی خلاف ورزی ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان بار کونسل ریاست کے ظالمانہ اقدامات کی پرزور مذمت کرتی ہے، حکومت اگر باز نہ آئی تو لوگ اس کے خلاف اٹھیں گے، سپریم کورٹ میں 45 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں، بڑی عجیب بات ہے کہ کوئی شخص اپنے گھر کو چھوڑ کر دوسروں کے گھروں میں جھانکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی سے سندھ میں گورنر راج لگانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں جو افسوسناک بات ہے، اگر سپریم کورٹ نے دوسرے اداروں کے معاملات میں مداخلت کرنی ہے تو سپریم کورٹ کا انتظام کسی اور کے حوالے کر دیتے ہیں، جس طرح سپریم کورٹ سندھ حکومت کو ٹارگٹ کر رہی ہے اس سے خوفناک ردعمل پیدا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے استدعا کرتا ہوں کہ کسی صوبے کی عوام کے مینڈیٹ اور ووٹ کی توہین کی جا رہی ہے، اٹارنی جنرل کو بھی کہ وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے نہ کہ کسی کارندے کا کام کریں، اگر سندھ میں کوئی غیر جمہوری کام ہوتا ہے تو پھر یہ عمل پورے ملک میں پھیلے گا۔

نائب صدر پاکستان بار کونسل نے کہا کہ سیاسی اور جمہوری عمل سے، ووٹ کے ذریعے تبدیلی ہونی چاہیے، عوام اور میڈیا کو چاہیے کہ کسی کو جعلی دیوتا نہ بنایا جائے، قوم پہلے ہی جعلی دیوتا کے اثرات بھگت رہی ہے، سندھ میں نالے صاف کرانا سپریم کورٹ کا نہیں سندھ حکومت کا کام ہے، نیب کے ذریعے آمرانہ دور کی یادیں تازہ کی جا رہی ہیں، یہ حکومت نیب کے کال اپ نوٹس جاری کر کے چلائی جا رہی ہے۔

اس موقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر قلب حسن نے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں مختصر فیصلہ آنے ایک ماہ بعد تحریری دلائل جمع ہونے پر نظرثانی درخواستیں دائر کیں، ہماری نظرثانی درخواستیں فکس نہیں ہو رہیں اور فروغ نسیم نے دوبارہ حلف اٹھا لیا ہے، شاید یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ہماری درخواستیں سماعت کے لیے مقرر ہی نہ ہو سکیں۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site