اسرائیل سے معاہدے پر ترکی کی یو اے ای پر شدید تنقید، منافقانہ رویہ قرار دے دیا

ترکی کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدہ کرنے پر تاریخ اور مشرق وسطیٰ کے لوگوں کا اجتماعی شعور متحدہ عرب امارات کے منافقانہ رویے کو نہ ہی بھولے گا اور نہ ہی معاف کرے گا۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی عوام اور ان کی انتظامیہ کا معاہدے کے خلاف شدید ردعمل درست ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یو اے ای امریکہ کی مدد سے جن خفیہ عزائم پر عمل پیرا ہے، وہ ابھی ادھورے اور غیرحقیقی ہیں، اس میں فلسطینیوں کی قوت ارادی کو نظرانداز کیا گیا ہے۔

ترکی نے عرب امن منصوبے سے یو اے ای کی یکطرفہ دستبرداری پر تشویش کا اظہار کیا ہے، 2002 میں طے پانے والے اس منصوبے میں طے کیا گیا تھا کہ عرب ممالک اسرائیل سے اس وقت تعلقات معمول پر لائیں گے جب وہ فلسطینی علاقوں سے اپنا قبضہ مکمل طور پر ختم کرے گا۔

ترکی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یو اے ای کی حکومت کو فلسطینیوں کی تائید حاصل کیے بغیر ان کی نمائندے طور پر اسرائیل سے مذاکرات کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یو اے ای اس معاہدے کو فلسطینیوں کے لیے قربانی کے طور پر پیش کر رہا ہے جبکہ حقیقت میں یہ اپنے محدود مفادات کی خاطر فلسطینیوں کے ساتھ غداری کے مترادف ہے۔

فلسطینیوں کا ردعمل

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نے اپنے بیان میں اس معاہدے کو رد کرتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے، رملہ میں صدر کی رہائش گاہ کے باہر تحریری بیان پڑھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ یروشلم، مسجد الاقصیٰ اور فلسطینی کاز کے ساتھ بے وفائی ہے۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site