ٹک ٹاک ملازمین کی صدر ٹرمپ کی پابندیوں کے خلاف عدالت جانے کی تیاریاں

ٹک ٹاک اور اس کے ملازمین نے ایپ پر پابندی عائد کرنے کے آرڈر پر صدر ٹرمپ کو عدالت لے جانے کی تیاری کر لی ہے۔

مقدمہ کی تیاری کرنے والے ایک وکیل کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک اور اس کے امریکی ملازمین ٹرمپ انتظامیہ کے اس مقبول ایپ پر پابندی عائد کرنے کے حکم کے خلاف عدالت جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔

ٹک ٹاک ایپ سے منسلک ملازمین کی نمائندگی کرنے والے انٹرنیٹ پالیسی کے ماہر وکیل مائیک گوڈوین کا کہنا ہے کہ ملازمین کی جانب سے ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف قانونی کارروائی یا چیلنج کمپنی کی جانب سے دائر کردہ قانونی مقدمہ سے الگ ہو گا۔ تاہم دونوں کا مقصد ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو غیر آئینی قرار دینا ہے۔ ٹک ٹاک ایپ کے مالکان کی جانب سے ٹرمپ کے خلاف قانونی کارروائی فی الحال التوا کا شکار ہے۔

ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے چینی کمپنی بائٹ ڈینس کی مشہور ایپ ٹک ٹاک اور میسجنگ ایپ وی چیٹ پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ امریکہ کی قومی سلامتی ، خارجہ پالیسی اور معیشت کیلئے خطرہ ہیں۔

ان کے مطابق ٹک ٹاک پر پابندی کا اطلاق ستمبر سے ہو گا۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ امریکہ کے 5 کروڑ صارفین کے لئے اس کا کیا مطلب ہو گا اور ان میں زیادہ تر تعداد نوجوان صارفین کی ہے جو شارٹ فام ویڈیوز دیکھتے اور پوسٹ کرتے ہیں۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site