میری دھرتی پوٹھوہار

کسی بھی تہذیب کی تاریخی حیثیت کو سمجھنے کے لئے اس کی زبان اور ادب سے واقفیت بےحد ضروری ہے ۔جن قوموں کی قدیم تہذیب ہو ان کی زبانوں سے ضرور کہیں نہ کہیں اس قوم کی تاریخی حیثیت و وقار کا اندازہ ہوتا ہے ۔زبان و ادب میں بنا تغیر سینہ بہ سینہ چلتی داستانیں ،لوک گیت، ماہیے، کہاوتیں اور محاورے ملتے ہوں تو اس قوم کے تاریخی پس منظر اور تہذیب و تمدن کا بھی پتا چلانا آسان ہوجاتا ہے۔ جب کسی خطے کے باسی اپنی زبان کی حفاظت خود کریں، مختلف قوموں کے درمیان رہنے کے باوجود بنا جھجھک روزمرہ کی گفت و شنید میں اپنی ہی بولی کا استعمال کرتے ہوں تو خیال آتا ہے کہ ایسی قوموں کے خدوخال مٹانا آسان نہیں۔

یہی احساس فیصل عرفان کی مرتب کردہ  کتاب ’’ پوٹھوہاری اکھانڑ تے محاورے‘‘ پڑھتے ہوئے ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی کسی نہ کسی شکل میں اپنی زبان کی حفاظت کا کام کرتا رہے گا اور اس کو تاریخ  کی شکل محفوظ کرجائے گا،ہر چند کہ ہمیں اپنے دانشوروں اور قلمکاروں سے گلہ رہتا ہے کہ وہ اپنی زبان کی ترقی کے لئے کچھ خاص تردد کرتے دکھائی نہیں دیتے اس کے باوجود جب کبھی کوئی دھرتی کا سپوت کچھ کام اپنی زبان میں کرے تو پھر ہم جیسے خوشی سے پھولے نہیں سماتے،خود میرا گاوں کہوٹہ اور زبان پوٹھوہاری ہے تو اپنی زبان پوٹھوہاری میں لکھی کتابیں مان بڑھاتی ہیں۔ فیصل عرفان کے حصے میں یہ اعزاز آیا ہے کہ ان کی کاوش کے سبب بہت سوں کو پوٹھوہاری بولی پر کام کرنے کا خیال ستانے لگا ہےلیکن کہتے ہیں کہ ’’ ہر بندے نا آپڑاں متھا‘‘ (ہر کسی کا اپنا ماتھا ہوتا ہے) اس سے مراد نصیب ہے ،جو ستائش فیصل کے مقدر میں آئی وہ کسی اور کے مقدر میں نہیں تھی۔ ہمارے سراہنے کا مقصد جہاں فیصل کی کاوش کی داد دینا ہے وہیں یہ بھی خیال ہے کہ ہوسکتا ہے کسی کو اس ستائش سے کوئی ترغیب ملے اور وہ بھی اپنی زبان کے لئے کچھ محنت کرے کیونکہ ’’وختے بغیر تخت نئی ملناں ‘‘(محنت بنا مراد نہیں ملتی)۔

 خود مجھے ندامت رہتی ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے اپنے قوم و قبائل سے متعلق مواد جمع کرتی ہوں کہ گکھڑ قوم جو اس خطہ پوٹھوہار پر کم و بیش آٹھ سو سال حاکم رہی اس کی سلطنت اور جاہ جلال سے متعلق بکھری معلومات  کو سلیس انداز سے کتابی شکل میں جمع کرنا چاہیے کیونکہ ایک کتاب ’’کئے گو ہر نامہ‘‘ جو فارسی زبان میں تھی جس کا اردو ترجمہ راجہ یعقو ب طارق (مرحوم) نے بڑی عرق ریزی سے کیا،گو کہ ایک عظیم کام ہے لیکن قدرے ثقیل انداز تحریر ہے،پھر یہ بھی سوچتی ہوں کہ اپنے ریسرچ سکالر ہونےکا کچھ فائدہ اپنی قوم و زبان کو بھی پہنچانا چاہیے لیکن مثال ہے نا کہ ’’ نلیقاں نے بستے پہھارے ہونڑے‘‘(نالائقوں کے بستے بھارے ہوتے ہیں) بس ایسی ہی کوئی صورتحال ہے کہ جب سوچا لکھنے کا تبھی کوئی نیا کٹا کھل جاتا ہے سچ تو یہ ہے کہ یہ تحقیق و تصنیف اب ایک کسک کی طرح زندگی میں ہر دم دل کو گھیرے رکھتی ہے۔ چلیں اور بہت نہ سہی محض یہیں سے کچھ شواہد جمع کیے جاسکتے ہیں جب سلطان قابل شاہ کے بیٹےگکھڑ شاہ(کئے گوہر) اپنےقبیلے کو لے کر سلطان محمود غزنوی کے ساتھ 1001 میں ہندوستان کی سرزمین میں داخل ہوئے اور پھر سلطان محمود نے پوٹھوہار کے علاقے ان کو دیے  جو جنگی اعتبار سے بہت اہم علاقے تھے ، یہیں سے باقاعدہ گکھڑوں کی نسلوں کی آباد کاری اس سرزمین پوٹھوہار پر ہوئی اور پھر گکھڑوں کے ہی ایک سردار جھنڈے خان نے راول گاوں (پنڈ) سے راولپنڈی شہر کی بنیاد رکھی جو آج پوٹھوہار کا صدر مقام ہے، اس تہذیب کا گڑھ ہے۔ گکھڑ وں نے 1765 تک اس خطہ میں حکومت کی، آخری سردار مقرب خان تھا ،جس کا مقبرہ آج بھی پھروالا قلعہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کےبعد سکھوں کے تصرف سے ہوتا بالاخر اس علاقے کو مہاراجا رنجیت سنگھ نے اپنے راج کا حصہ بنالیا۔

1849 میں پوٹھوہار کے دل راول پنڈی پر انگریزوں نے قابضہ کرلیا۔ برطانوی فوج کی ایک مستقل گیریژن  قائم کر دی گئی ،فوجی ضروریات کے لیے  ریلوے لائن بچھا دی گئی،اسلحہ خانہ بنا لیا گیا۔یہ تسلط تقریبا سو سال تک رہا۔اس کے بعد پھر سے اس خطے کو آزادی تحریک پاکستان کی شکل میں نصیب ہوئی جب مسلمان رہنماوں نے ہندووں کے مظالم و ناانصافی سے تنگ آکر دو قومی نظریہ کی بنیاد پر الگ وطن کا تقاضہ کیا تھا،مسلمانوں کی لازوال قربانیوں کے سبب پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔قیام پاکستان کے بعد بھی اس خطے کی اہمیت کم نہ ہوئی اور اسے عسکری حوالے سے بھی اہم مقام حاصل ہوا،کراچی سے جب دارلحکومت اسلام آباد بنانے کا فیصلہ کیا گیا تب عبوری طور پر راولپنڈی کو ہی ملک کا صدر مقام بنایا گیا تھا۔

خطہ پوٹھوہار کا تاریخی مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ یہ تہذیب اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود کرہ ارض ہے۔اس دعوے کی سچائی جاننا ہو تو جغرافیہ و تاریخ کے ساتھ ساتھ معروف ماہر آثاریات و محقیقین کی کتب کا مطالعہ کرنا پڑےگا جو اس علاقہ میں انسانی تہذیب کو تین ہزار سال قبل مسیح سے بھی قدیم بتاتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ ایک  مکمل انسانی ڈھانچہ بھی اس کے نواح میں ملا جو تقریبا 5 لاکھ سال پرانا ہے، بعض مورخین نے تو لکھا کہ کراہ ارضی کے اس خطے پربھی پہلے پانی تھا اور جب سمندر و دریا سوکھے تو ابتدائی ارتقاء انسانی میں جو علاقے آباد ہوئے، خطہ پوٹھوہار  بھی تبھی سے آباد ہے۔اس کے ثبوت کے طور پر ماہر آثاریات ice age))برف کے زمانے سے لےکر ((stone age پتھر کے زمانے تک انسانی زندگی کے آثار اور مختلف تہذیبوں کی ترقی کے شواہد کا ذکر مختلف کتب میں کرتے ہیں۔اس کے علاوہ اس خطے پہ ہمیشہ جنگجو قومیں ہی آباد نظر آتی ہیں کیونکہ اس کی جغرافیائی حالت  و محل و وقوع ہی ایسا تھا کہ یہ حملہ آوروں کی گزر گاہ  بنا رہا ۔سکندر اعظم کے حملے سے لے کر  شیر شاہ سوری تک مختلف فاتح و سلطان یہاں اپنی دھاک بٹھانے کی خاطر حملہ آور ہوئے لیکن یہاں کے باسی بھی کوئی عام لوگ نہ تھے، انہوں نے ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور اپنی سرزمین پوٹھوہار پر کسی کا تسلط برداشت نہ کیا اور ہمیشہ اپنی آزادی و بقا کی جنگ لڑتے رہے۔

ماضی میں یہاں منگولوں اور پھر سفید ہنوں((White Huns کی تباہی کے آثار بھی ملتے ہیں، جنہوں نے اس خطے کو تہس نہس کرکے رہنے کے قابل بھی نہ چھوڑا تھا اور بہت وقت تک یہ یونہی تباہی و بربادی کی تصویر بنا رہا ۔

یہاں قسمت آزمائی کرنے والوں میں معروف نام سکندر اعظم کا ہے۔ عظیم فاتح الیگزینڈر نے جب اس سرزمین پر حملہ کیا تو اس کا مقابلہ دھرتی کے بہادر سپورت راجہ پورس نے کیا لیکن اسے اس بڑی فوج سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، کہتےہیں جب راجہ پورس سکندر اعظم کے دربار میں پیش ہوا تو اس نے مہاراجہ امبھی کی طرح سرینڈر کرنے کی بجائے سکندر کے سامنے سر اٹھا کر مکالمہ کیا جس سے عظیم فاتح کے دل پہ اس دھرتی کے سپوت کی ایسی دھاک بیٹھی کہ اس نے جنگ میں ہارا علاقہ اسے واپس کر کے دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔یہ علاقہ کافی عرصے تک چندرگیت موریہ کی سلطنت میں بھی شامل رہا اور مشہور حکمران اشوک  کی مملکت کا حصہ بھی رہا- انگریزوں نے بھی جب برصغیر پاک و ہند کا رخ کیا اور کم و بیش سو سال یہاں حکومت کی تو انہوں نےبھی علاقہ پوٹھوہار کے جفاکش اور بہادر لوگوں کو اپنی وسیع عریض مملکت کی حفاظت اور ترقی کا کام لیا، برصغیر پاک و ہند میں وارد ہونے والےشہرت یافتہ انگریز فوجیوں کی شہرت میں اس علاقے کے بہادر جنگجووں اور فوجیوں کی شجاعت کا بڑا ہاتھ تھا-

اس ذرخیز خطے کی ایک پہچان کوہستانِ نمک بھی رہی ،ابن بطوطہ بھی اپنے سفر نامے میں کھیوڑہ کی نمک کی کان کا تذکرہ کرتے ہیں،اس کی اونٹ کی کوہان جیسی پہاڑیاں اور بارشوں سے بنے قدرتی دریا و آبشار کے ساتھ پانی کے ذخائر یہاں کے مکینوں کو کھیتی باڑی کے لئے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں۔ اسی لئے جہلم سے لے کر مارگلہ کی پہاڑیوں تک دیکھنے والوں کو جا بجا کھیت کھلیان اور ہریالی ہی ہریالی نظر آتی ہے۔

یہ اس خطے کی خاص کرامت ہے کہ یہ اپنی خدوخال سے محبت بکھیرتا اور محبت سمیٹتا نظر آتا ہے،خطہ پوٹھوہار یہاں بسنے والے ہر رنگ و نسل کے فرد کے لئے اپنی باہیں محبت سے کھول دیتا ہے چاہے کوئی یہاں حادثاتی طور پر آیا ہو یا منصوبہ بندی کرکے، چاہے کوئی روزی روٹی  کی تلاش میں آیا ہو یا کسی مجبوری کے سبب ، اس دھرتی نے ہمیشہ خلوص اور محبت سے اسے پناہ دی اور پھر یہاں آئے اجنبی بھی ہمیشہ کے لئے اس کے ہو کر رہ گئے۔

اسی خاطر ہم  بھی اپنی دھرتی کے قرض اتارنے والوں کو سراہتے ہیں، فیصل نے بڑی محنت سے ان محاوروں اور ضرب الامثال کو جمع کیا اور پھر اس میں سے انتخاب کرکے اس کو کتابی شکل دی گو کہ  بیشمار محاوروں اور ضرب الامثال کو دانستہ نظر انداز بھی کیا گیا ، جس کی ایک وجہ اس کا اخلاقی پہلو ہے،ہر زبان میں بعض محاورے نامناسب صورتحال میں بولے جانے کے سبب رواج پکڑ لیتے ہیں ایسی باتوں کو ادب کے دائرہ سے دور رکھا جانا ہی مناسب ہے،یہی سبب ہے کہ فیصل عرفان بھی ایسی بہت سی قباحتوں سے پرہیز کرتے نظر آئے جو ایک اچھا عمل ہے۔

سعدیہ کیانی صاحبہ صحافی، ریسرچ سکالر، بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site