درانی سے بزدار تک کا سفر

پاکستانی عوام کو 70 سال سے ایک ایسے لیڈر کی تلاش رہی ہے جو انہیں ایک باعزت قوم کی شناخت دے سکے۔ عوام نے ہمشہ نئے لیڈر کو چانس دیا وہ چاہے سول ہو یا فوجی اور اس سے امید باندھ لی کہ شائد یہی ان کا مسیحا ہے لیکن سب نے سہانے سپنے دکھا کر ووٹ بٹورے اور کرپشن کر کے عوام کے پیسوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔

ان رہنماؤں نے تو بیرون ملک 7 براعظموں میں جائیدادیں بنا لیں لیکن عوام غربت کی چکی میں پستے اور فاقوں سے تنگ آ کر خود کشیاں اور جرائم میں ملوث ہوتے رہے۔ ایوب خان سے لیکر عمران خان تک سب کا طریقہ واردات ایک ہی رہا اور وہ یہ کہ جب اپوزیشن میں ہوں تو دودھ کی نہریں اور عوام کو بااختیار بنانے کے دلفریب نعرے سناتے رہے  لیکن حکومت میں آتے ہیں سب وعدے بھول گئے۔

پنجاب اور پاکسان میں ن لیگ کا 35 سالہ دور اور پی پی پی کا وفاق اور سندھ اتنا ہی عرصہ حکمرانی عوام کا مقدر بنا رہا اور پھر اچانک عوام کو عمران خان کی شکل میں روشنی کی ایک کرن نظر آئی اور انہوں نے سوچا کہ شائد یہ ان کا مسیحا ہے جس کے ذریعے پرانے حکمرانوں سے آزادی مل جائے۔ یہی سوچ کر عوام نے نیا سفر شروع کیا، عمران خان کا ہاتھ تھاما اور کرپٹ حکمرانوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔

عمران خان نے دلفریب منشور عوام کے سامنے رکھا جس میں ہالینڈ کے وزیراعظم کا سائیکل پر دفتر جانا، امیر اور غریب کے بچوں کی تعلیم اور صحت کا یکساں نظام دینے کا نعرہ، عوام کو میرٹ پر روزگار مہیا کرنا، پولیس اور دیگر اداروں میں اصلاحات لانا، پولیس سسٹم کو عوام کے تابع کرنا، مہنگائی ختم کرنا، نوجوان کو بااختیار کرنا اور میڈیا کو آزاد کرنا شامل تھا

عوام نے عمران خان کی باتوں پر یقین کیا اور انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھتے ہوئے خیبرپختونخوا کی حکومت بنانے میں مدد دی جہاں پی ٹی آئی ایک نیک نام پولیس افسر ناصر درانی کو آئی جی لگایا اور پولیس اصلاحات لانے کا اعلان کیا۔ عمران خان نے ناصر درانی کو پوسٹر بوائے کے طور پر استعمال کیا اور پاکستان کے عوام کو باور کرانے میں کامیاب ہوئے کہ وہ میرٹ پر یقین رکھتے ہیں اور ناصر درانی کو آئی جی لگا کر پولیس کے پرانے نظام کو دفن کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں ایک اقلیت نما حکومت ہوتے ہوئے بھی عمران خان نے کچھ کرنے کوشش کی اور پورے پاکستان میں کرپٹ بیوروکریسی کو تنقید بناتے رہے۔

5 سال بعد الیکشن میں عوام نے عمران خان کو موقع دینے کا فیصلہ کیا، نوجوانوں نے بالخصوص جنون کی حد تک ان کا ساتھ دیا اور پی ایم ایل ن اور پی پی پی جیسی مضبوط پارٹیوں کو نظرانداز کر کے پاکستان تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع فراہم کر دیا۔ حکومت میں آنے کے بعد عوام نے ہر مشکل میں عمران کا ساتھ دیا تا کہ وہ پرانے حکمرانوں کی کرپشن کی وجہ سے ملک کو درپیش مشکل صورتحال سے نکال سکیں۔

عوام کا خیال تھا کہ وزیراعظم ایک اچھی بیوروکریسی کا انتخاب کریں گے اور درانی جیسے پولیس افسر کو لوگوں کی خدمت کے لیے اوپر لے کر آئیں گے لیکن پہلا جھٹکا عثمان بزدار کی بطور وزیر اعلی تعیناتی پر لگا جنہیں عمران خان نے وسیم اکرم پلس قرار دے دیا۔ عوام نے پھر بھی اپنے قائد کے اعتماد پر انہیں قبول کیا کہ شائد ثمان بزدار کے ذریعے ان کی زندگیاں بدل جائیں۔

لیکن المیہ یہ ہوا کہ حکومت نے چن چن کر اسی نالائق بیوروکریسی کو عہدے دیے جو پچھلی حکومت کے ساتھ تھی، سونے پر سہاگہ یہ کہ ایک غیر منتخب مشیروں کی فوج بھی عوام کے مقدر سنوارنے کے لیے مسلط کر دی گئی، بطور اپوزیشن میڈیا کی آزادی کے گن گانے والے عمران خان نے سب سے پہلے میڈیا پر کریک ڈاؤن کیا کہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری اور ہر اس صحافی کو بیروزگار کیا جو عمران خان کی پالیسیوں پر تنقید کرتے تھے۔

کئی ٹاک شو بند کرائے گئے، میڈیا مالکان پر صحافیوں کو بیروزگار کرنے کے لیے دباؤ جاری ہے، کچھ مالکان کو نیب کے ہاتھوں سبق سکھانے کےلیے گرفتار کیا گیا، پوری دنیا میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو بہتر انداز میں پیش کرنے کے دعوی کے برعکس سعودی عرب جیسا ملک جو ہمشہ پاکستان مدد کے لیے تیار رہتا تھا، اسے بھی دور کر دیا گیا۔

انڈیا نے کشمیر اپنے اندر ضم کر لیا لیکن دنیا نے اس موقع پر بھی ہمارا سنجیدہ ساتھ نہیں دیا اور بات صرف بیانات تک محدود رہی، پھر آٹا اسکینڈل، ادویات اسکینڈل اور شوگر سبسڈی اسکینڈل سامنے آ گئے لیکن کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی حالانکہ حکومت میں آنے سے پہلے احتساب سب سے بڑا نعرہ تھا۔

پھر جی آئی ڈی سی کے معاملے میں عوام کے پیسوں پر 430 ارب روپے پر ڈاکہ مارنے کے لیے راتوں رات آڈریننس لایا گیا لیکن میڈیا کے کچھ صحافیوں نے اس اسکینڈل کو بے نقاب کیا تو حکومت نے ان کی نوکری ختم کرا دی اور یہ مثال قائم کر دی کہ آئیندہ کوئی صحافی حکومت کے اسکینڈل منظر عام پر لانے کی کوشش نہ کرے۔ بہرحال سپریم کورٹ کے فیصلے نے ایک تو اربوں روپے واپس قومی خزانہ میں لانے کی راہ ہموار کی، دوسرے ان صحافیوں کی بھی عزت و توقیر اور قد کاٹھ میں راتوں رات اضافہ ہو گیا جنہوں نے اس ایشو پر حکومت پہ دباؤ جاری رکھا تھا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ وسیم اکرم پلس یعنی عثمان بزدار، جنہوں نے عوام کا مقدر بدلنا تھا، وہ شراب کے لائسنس کے سلسلے میں نیب میں پیشاں بھگت رہے ہیں جبکہ ناصر درانی جیسے افسران کی جگہ اعظم خان جیسے بیوروکریٹ نے لے لی ہے۔ وہ مبینہ طور پر فواد حسن فواد کے رستے پر پوری طرح گامزن ہیں اور اپنے یار دوستوں اور رشتہ داروں کی اہم عہدوں پر تعیناتیاں کر رہے ہیں۔

وہ ہالینڈ کے وزیراعظم کی سائیکل پر جانے کی مثالیں، بجلی، گیس اور پیٹرول کی قیمتوں میں کمی کرنے کے سہانے خوابوں کا کیا ہوا؟ میرا خیال ہے عوام کے ساتھ ایک بار پھر ہمیشہ کی طرح ہاتھ ہو گیا ہے اور ان ہاتھ کرنے والے لیڈروں کی لسٹ میں وزیراعظم عمران خان کا اضافہ ہو گیا ہے۔ باقی 70 سالہ پاکستان کا حال ویسا ہی چل رہا جو 2018 سے پہلے تھا، میرا مشورہ تو یہ ہے کہ عوام اب کسی نئے مسیحا اور لیڈر کی تلاش چھوڑ دے اور جو رہنما اس وقت موجود ہیں انہی پر قناعت کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site