گل باز مشتاق

  • انتخاب

    مارگلہ ریلوے اسٹیشن: ایک ادھوری کہانی

    یہ اسلام آباد کا مارگلہ ریلوے اسٹیشن ہے۔ شہر کے مزاج کی طرح خاموش، اداس اور ویران۔ یہاں نہ تو خوانچہ فروشوں کی آہو کار ہے، نہ سرخ وردی پہنے قُلیوں کی دھکم پیل۔ بس ایک سکوت کا عالم رہتا ہے۔ ماحول کا یہ سکوت صرف ریل کی آمد پر چند لمحوں کو ٹوٹتا ہے جو راولپنڈی سے کسی اژدھے کی مانند آتی ہے اور اِکا دُکا مسافروں کو نگل کر اسی راستے سے واپس چلی جاتی ہے۔ ڈوکیڈیس نے جب اس شہر کا نقشہ بچھایا تو سیکٹروں کی سیدھی لائنوں کے بیچوں بیچ زیرو پوائنٹ کے پاس کہیں ریلوے اسٹیشن کا بھی کوئی خانہ تو تھا، لیکن…

    مزید پڑھیں
  • کالم

    مندر، مسجد اور گرودوارہ

    اسلام آباد بری امام سرکار کے نور پور سے شروع ہوتا ہے اور اقتدار کے ایوانوں سے گزر کر اشرافیہ کے رہائشی سیکٹرز تک پہنچتا ہے۔ یہاں سے یہ مڈل کلاس اور سرکاری ملازموں کے سیکٹروں سے گھوم کر گولڑہ شریف جا ختم ہوتا ہے۔ سالوں پہلے جب ابھی اس علاقے نے بپتسمہ نہیں لیا تھا اور  ڈوکیڈیس نے یہ شہر نقشے سے اتار کر زمین پر نہیں پھیلایا تھا تو یہاں کئی چھوٹے چھوٹے گاؤں آباد تھے۔ گکھڑوں، راجپوتوں اور ملہاروں کا یہ علاقہ تب راول، سیدپور اور گولڑہ کے مندروں کی تکون میں گھرا ہوا تھا۔ اسلام آباد سے صفر کلومیٹر دور سید پور گاؤں خاموشی…

    مزید پڑھیں
  • کالم

    شہرِ خموشاں کے گمشدہ مندر

    سعادت حسن منٹو سے تو آپ واقف ہوں گے؟ وہی منٹو جو تقسیم ہند کے درد کی کہانیاں سناتے سناتے مر گیا لیکن یار لوگوں نے اس پر فحاشی کا الزام لگا کر بدنام کیا ہوا ہے۔ اپنے ایسے ہی ایک “فحش” افسانے ٹھنڈا گوشت میں منٹو ہمیں ایک سکھ ایشر سنگھ کی کہانی سناتا ہے۔ سن سنتالیس کے فسادات کے دوران یہ ایشرسنگھ اپنے ہم مذہبوں کے ہمراہ ایک مسلمان گھر پر دھاوا بولتا ہے اور چھ لوگوں کو اپنی کرپان سے کاٹ کر ایک لڑکی اغوا کر لیتا ہے۔ پھر جب اس سے زیادتی کی کوشش کرتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ وہ مری ہوئی…

    مزید پڑھیں
Back to top button
گل باز مشتاق is highly popular post having 1 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site