شفیق لغاری

  • کالمPhoto of سردار ملاح کی زندگی کے آخری 14 روز

    سردار ملاح کی زندگی کے آخری 14 روز

    لاہور سے میرے دوست ڈاکٹر عرفان قیصرانی نے عدم صاحب کا ایک واقعہ سنایا، جو کالم کے آخر میں بیان کردہ میرے ذہنی خلفشار سے حیرت انگیز مماثلت اختیار کر گیا۔ ڈاکٹر عرفان قیصرانی، عدم صاحب کا واقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔                  بدھ کے دن نمازِ جمعہ؟ عبدالحمید عدم نے ایک بار اپنے انگریز افسر سے اجازت طلب کرتے ہوئے عرض کیا،        سر! میں نمازِ جمعہ پڑھ آؤں؟ انگریز افسر نے جواب دیاہاں کیوں نہیں؟          پڑھ آؤ۔عدم صاحب کے جانے بعد ایک دوست نے آ کر افسر سے پوچھا؟          عدم صاحب کہاں ہیں؟وہ تو جمعہ پڑھنے گئے ہوئے ہیں۔ انگریز افسر نے جواب…

    مزید پڑھیں
  • کالمPhoto of ماضی کے مزار

    ماضی کے مزار

    یاد ِماضی عذاب گاہ یا پناہ گاہ؟ وجودیت کے امام ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ ماضی کو بھلایا تو جا سکتا ہے لیکن مٹایا نہیں جا سکتا۔ ماضی ہی آپ کی تعمیر و توقیر کا آئینہ خانہ ہوتا ہے۔  فیض صاحب کیا خوبصورت بات کہہ گئے ہیں کہ غم روزگار کی دل فریبیوں نے تری یاد سے بیگانہ کر دیا۔ خدا غارت کرے اس کرونا کو  جس نے غم دوراں اور غم جاناں دونوں سے بیگانہ کر دیا ہے۔ بس جان بچاؤ، لاکھوں پاؤ کے فرط نشاط نے طبیعتوں اور زندگی کی ہاؤ ہو میں ایک ٹھہراؤ سا پیدا کر کے رکھ دیا ہے اور ماضی…

    مزید پڑھیں
  • کالمPhoto of استاد کے نام دوسرا خط

    استاد کے نام دوسرا خط

    استاد! ایک بات آپ یقیناً تسلیم کریں گے کہ تاریخ پڑھے بغیر کوئی بڑا آدمی نہیں بن سکتا لیکن تاریخ پڑھنا ہی کافی نہیں، اس کو سمجھنا اور اس سے سبق حاصل کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔   فرشتوں سے بہتر ہے انسان بننا! بڑا آدمی بننے کے لیے تاریخی شعور اور بڑا لیڈر بننے کے لیے سماجی شعور لازمی امر ہے، تاریخ انسان کا کردار بناتی ہے اور کردار انسان کو امر کر دیتا ہے۔ تاریخ میں آپ کو جتنے بھی بڑے اشخاص نظر آتے ہیں انھیں تاریخی و سماجی شعور حاصل تھا۔ ان کا کردار تھا جس وجہ سے یہ لوگ آج تک زندہ و جاوید…

    مزید پڑھیں
  • کالمPhoto of استاد کے نام ایک خط

    استاد کے نام ایک خط

    استاذی وقار! شکسپیئر کے ڈرامے ’’جولیس سیزر‘‘میں بروٹس ایک جگہ کہتا ہے ‘انکساری شروع شروع میں جاہ طلبی کے لیے ایک زینہ ہوا کرتی ہے۔ جب وہ سب سے اونچی سیڑھی پر پہنچتا ہے تو نچلی سیڑھیوں سے منھ پھیر لیتا ہے جس کی وجہ سے اسے یہ بلند مقام نصیب ہوا، انسان کو قربانی کرنے والا بننا چاہیئے، قصاب نہیں’  اشعار کے پردے میں ہیں ہم کس سے مخاطب؟ اسلامی کیلنڈر کے پہلے ماہ رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف میں بیٹھ کر انسان اپنے گزشتہ برس کا احتساب اور آئندہ سال کی منصوبہ بندی کی سوچ و بچار کرتا ہے۔ یاد ماضی عذاب ہے یا رب…

    مزید پڑھیں
  • کالمPhoto of مس کال کا جواب مس کال سے دینے والے

    مس کال کا جواب مس کال سے دینے والے

    ہمارے گھر کو آگ لگی ہوئی ہے اور ہمارے مہربان فائر بریگیڈ کو مس کالیں دے رہے ہیں۔ ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے؟ جوں  ہی کورونا کی وبا کا آغاز ہوا، ہر طرف ہا ہاکار مچ گئی، لاک ڈاؤن شروع ہوگئے، بازار، مارکیٹیں بند، گلیاں سنسان، ہر طرف ایک ہو کا سا عالم ہوگیا۔ کسی کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں اور کہاں جائیں؟ عوام ڈر کر، سہم کر، گھروں کے اندر دبک کر بیٹھ گئے۔ کسی نے باہر نکلنے کی کوشش کی تو اسے ڈرا کر، دھمکا کر، جبراً اور طوعاً وکرہاً کسی نا کسی طور پر اندر دھکیل دیا گیا۔…

    مزید پڑھیں
  • کالمPhoto of ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے

    ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے

    برٹر ینڈ رسل نے کہا تھا ”وہ لوگ بھی دائیں بائیں دیکھ کر سڑک کراس کرتے ہیں جن کا پختہ عقیدہ ہوتا ہے کہ موت کا اک دن معین ہے” اکھیں رستہ بنٹریاں! مجھے سفلی علم اور کالے جادو کی کاٹ کے ماہر ان بنگالی بابوؤ ں کا شدت سے انتظار ہےجو پلک چھپکتے میں، محبوب آپ کے قدموں پر، اولاد کا نا ہونا یا ہو کر مر جانا، لاعلاج بیماری، دل کی بند شریانیں اور قد جتنا مرضی چاہیں، جن کے مؤکل کوہ قاف کے پہاڑوں سے چشم زدن میں آ کر، تمام لاینحل مسائل ایک چٹکی میں حل کر دیتے ہیں۔ تم کس ہنر میں یکتا…

    مزید پڑھیں
  • کالمPhoto of موت سے پہلے لکھی گئی ایک تحریر

    موت سے پہلے لکھی گئی ایک تحریر

    یوں تو دنیا دکھوں سے بھری پڑی ہے۔شرط یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو محسوس کرنے والا دل اور دیکھنے والی آنکھ عطا کی ہو ۔ ورنہ تو کئی لاشیں گرانے، خون کی ندیاں بہانے ، عورتوں کے بین کرنے اور معصوم بچوں کے زاروقطار رونے پر بھی ہم نے قاتلوں کو خون میں لت پت تڑپتی لاشوں کے گرد دھمالیں ڈالتے اور فتح و مسرت کے نعرے لگاتے ہوئے سنا ہے۔ آپ نے بھی سنا ہو گا؟مگر شرط پھر وہی ہے کہ دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں درد جب حد سے گزرتا ہے تو رو لیتے ہیں…

    مزید پڑھیں
  • کالمPhoto of قرنطینہ کیف

    قرنطینہ کیف

    آپ کو عنوان پڑھ کر قطرینہ کیف کا خیا ل آنے لگا ہے تو یہ یقیناً آپ کے زندہ بلکہ زندہ دل ہونے کی نشانی ہے لیکن یہ قطرینہ کیف کی حشر سامانیوں کا نہیں بلکہ کورونا کی ہلاکت خیزیوں کا تذکرہ ہے۔ تو عرض کیا ہے! آج سے تقریباً 100 سال قبل کی بات ہے۔ دنیا کو ایسی وبا کا سامنا کرنا پڑا، جب دنیا کی آبادی لگ بھگ 2 ارب تھی، جس سے دیکھتے ہی دیکھتے 5 کروڑ افراد لقمئہ اجل بن گئے۔ اس تیزی سے پھیلتی وبا نے دنیا کی تاریخ، معاشرت، جغرافیہ اور سیاست کا حلیہ بگاڑ کے رکھ دیا۔ ”انساں ” پہ ترے…

    مزید پڑھیں
Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site